کراچی (ویب ڈیسک) 30 جون 2026
صوبائی دارالحکومت کراچی کے علاقے سرجانی ٹاؤن میں ایک انتہائی پُراسرار اور افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے، جہاں اپنی منگنی طے ہونے سے شدید ناخوش 15 سالہ کم عمر لڑکی گھر کے اندر مردہ حالت میں پائی گئی ہے۔ متوفیہ کے منہ سے مبینہ طور پر زہریلی جھاگ نکل رہی تھی، جس کے باعث پولیس اور طبی ماہرین کو شدید شبہ ہے کہ یہ موت قدرتی یا طبی نہیں بلکہ اس کے پیچھے کوئی ہولناک حقیقت چھپی ہوئی ہے۔ لڑکی کی اچانک اور پراسرار موت کی خبر پھیلتے ہی علاقے میں شدید تشویش اور سنسنی کی فضا قائم ہو گئی ہے، جبکہ پولیس نے واقعے کو مشکوک قرار دیتے ہوئے تمام پہلوؤں پر تفتیش کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق، سرجانی ٹاؤن تھانے کی حدود خدا کی بستی میں واقع مکان نمبر 102 سے ایک 15 سالہ لڑکی کو بے ہوشی کی حالت میں فوری طور پر عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے معائنے کے بعد اس کی موت کی تصدیق کر دی۔ اسپتال انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے کی جانے والی ابتدائی کارروائی کے دوران متوفیہ کی شناخت 15 سالہ زویا دختر زریاب احمد کے نام سے ہوئی ہے۔ سرجانی ٹاؤن پولیس کا کہنا ہے کہ لڑکی کی لاش کو اس کا سگا بھائی مدثر اور تایا عباسی شہید اسپتال لے کر آئے تھے، جہاں انہوں نے ڈاکٹروں کو بتایا کہ لڑکی رات کو معمول کے مطابق اپنے کمرے میں سوئی تھی لیکن صبح جب اسے اٹھانے کی کوشش کی گئی تو وہ مردہ حالت میں پائی گئی۔
سرجانی ٹاؤن پولیس کے اعلیٰ حکام نے واقعے کا گہرائی سے جائزہ لینے کے بعد بتایا کہ لڑکی کی محض 2 روز قبل ہی خاندانی رضامندی سے منگنی طے پائی تھی، تاہم 15 سالہ زویا اس فیصلے سے بالکل بھی خوش نہیں تھی۔ خاندانی ذرائع کے مطابق، زویا نے اپنے والد سے اس منگنی کو فوری طور پر توڑنے کا سخت مطالبہ بھی کیا تھا، جس پر والد نے اسے دلاسہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ یہ رشتہ ختم کر دیں گے۔ تاہم، شدید ذہنی دباؤ اور غصے کی حالت میں لڑکی نے خود کو اپنے کمرے میں بند کر لیا تھا اور اگلی ہی صبح اس کی منہ سے جھاگ نکلتی ہوئی لاش برآمد ہوئی۔ پولیس کو شبہ ہے کہ لڑکی نے دلبرداشتہ ہو کر کوئی زہریلی چیز نگل کر خودکشی کی ہے یا معاملہ کچھ اور ہے۔
پولیس حکام کا مزید کہنا ہے کہ فوری طور پر لڑکی کی موت کی اصل وجہ کا حتمی تعین نہیں ہو سکا ہے، جس کے باعث عباسی شہید اسپتال کے ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم سے لڑکی کا تفصیلی پوسٹ مارٹم کروا لیا گیا ہے۔ ڈاکٹروں نے زویا کے جسم اور معدے سے مختلف نمونے حاصل کر لیے ہیں، جنہیں کیمیاتی تجزیے (کیمیکل ایگزامینیشن) کے لیے سرکاری لیبارٹری بھجوایا جائے گا تاکہ زہر خورانی یا کسی اور وجہِ موت کا سائنسی تعین کیا جا سکے۔ پولیس نے قانونی ضابطے کی کارروائی مکمل کرنے کے بعد لاش کو تدفین کے لیے اس کے حقیقی والد کے سپرد کر دیا ہے، جبکہ واقعے کی ہر زاویے سے باقاعدہ تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔
