اسلام آباد (ویب ڈیسک) 8 جولائی 2026
ملک بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ممکنہ کمی کی اطلاعات سامنے آنے کے بعد مہنگائی کے مارے عوام میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے باعث آئندہ پندرہ روزہ جائزے میں عوام کو مالی ریلیف فراہم کیا جا سکتا ہے۔ ماہرینِ معاشیات کا کہنا ہے کہ اگر قیمتوں میں کمی ہوتی ہے تو اس سے نہ صرف ٹرانسپورٹ کے اخراجات کم ہوں گے بلکہ عام اشیاء کی قیمتوں پر بھی مثبت اثر پڑے گا۔
دوسری جانب، قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم کے اجلاس میں وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے بریفنگ دیتے ہوئے ایک بڑا انکشاف کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت اس وقت پیٹرول پر تقریباً 80 روپے اور ڈیزل پر 70 روپے فی لیٹر پیٹرولیم لیوی وصول کر رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس لیوی کو ختم کرنا فی الحال ممکن نہیں کیونکہ حکومتی اخراجات اسی رقم سے پورے ہوتے ہیں، اور اگر اسے ختم کیا گیا تو مہنگائی کا بوجھ مزید بڑھ جائے گا۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ خام تیل سستا ہونے کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہوتا کہ پیٹرول بھی لازمی سستا ہو، کیونکہ پاکستان اپنی ضرورت کا 70 فیصد ریفائنڈ ایندھن درآمد کرتا ہے جو عالمی مارکیٹ میں اب بھی مہنگا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گیس کمپنیوں کی نجکاری کی تیاریاں آخری مراحل میں ہیں اور پیٹرولیم سیکٹر کو ڈی ریگولیٹ کرنے پر کام جاری ہے، جس سے نجی شعبے میں مسابقت بڑھے گی اور مستقبل میں ایندھن سستا ہونے کی توقع ہے۔
