Ballistic missiles launched into the night sky aiming at military targets during Middle East conflict.

تیسری عالمی جنگ کی آہٹ؟ ایران کا بحرین اور کویت میں امریکی اڈوں پر 85 میزائلوں اور ڈرونز سے ہولناک حملہ!

کراچی (ویب ڈیسک) 8 جولائی 2026

مشرقِ وسطیٰ سے ایک انتہائی تشویشناک اور تہلکہ خیز خبر سامنے آئی ہے جس نے عالمی سطح پر خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے ایک باضابطہ اور انتہائی سخت بیان جاری کرتے ہوئے یہ سنسنی خیز دعویٰ کیا ہے کہ ان کی بحری اور فضائی افواج نے ایک بڑی اور مشترکہ عسکری کارروائی کے دوران خلیجی ممالک بحرین اور کویت میں واقع اہم ترین امریکی فوجی تنصیبات سمیت مجموعی طور پر 85 اسٹریٹجک اہداف کو جدید ترین بیلسٹک میزائلوں اور کامیکازی ڈرونز (خودکش ڈرونز) کا نشانہ بنایا ہے۔ پاسدارانِ انقلاب کے جاری کردہ تفصیلی بیان کے مطابق، اس وسیع الجثہ اور تباہ کن فضائی حملے میں خاص طور پر بحرین کے دارالحکومت منامہ میں قائم امریکی بحریہ کے مشہورِ زمانہ ‘ففتھ فلیٹ’ (Fifth Fleet) کے مرکزی ہیڈکوارٹر اور کویت میں واقع امریکا اور اس کے اتحادیوں کے زیرِ استعمال اہم ترین ‘علی السالم ایئر بیس’ (Ali Al Salem Air Base) کو براہ راست ہدف بنایا گیا ہے۔ یہ دونوں فوجی اڈے خطے میں امریکی عسکری طاقت اور اس کی فضائی و بحری نقل و حرکت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ایرانی افواج کا یہ دعویٰ اگر آزاد اور غیر جانبدار ذرائع سے سو فیصد درست ثابت ہو جاتا ہے، تو اس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں دہائیوں سے جاری سرد جنگ اب باقاعدہ طور پر ایک انتہائی خوفناک اور براہ راست گرم جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے، جس کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کی معیشت، خاص طور پر عالمی منڈی میں تیل کی ترسیل اور قیمتوں پر اس کے انتہائی تباہ کن اور دور رس اثرات مرتب ہوں گے، جس کا خمیازہ پوری دنیا کو بھگتنا پڑ سکتا ہے۔

ایرانی عسکری حکام اور پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ اس حساس بیان میں اس اچانک اور ہولناک کارروائی کی وجوہات پر روشنی ڈالتے ہوئے انتہائی سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ ایرانی فوجی بیان میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ یہ وسیع پیمانے کی عسکری کارروائی دراصل امریکا کی جانب سے حال ہی میں طے پانے والے ‘اسلام آباد معاہدے’ اور خطے میں قائم جنگ بندی کی صریح اور کھلی خلاف ورزی کے براہ راست جواب میں کی گئی ہے۔ ایران کا انتہائی سخت مؤقف ہے کہ امریکی افواج نے اسی روز ایران کے جنوبی صوبے ہرمزگان اور ماہشہر کے انتہائی حساس ساحلی اور غیر فوجی مقامات پر بلااشتعال فضائی حملے کیے تھے، جس کے بعد ایران کے پاس اپنی قومی سلامتی اور خودمختاری کے دفاع کے لیے اس جوابی کارروائی کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں بچا تھا۔ پاسدارانِ انقلاب نے اس میزائل اور ڈرون حملے کو محض ایک ‘ابتدائی جواب’ (Initial Response) قرار دیتے ہوئے امریکا اور اس کے اتحادیوں کو کھلی وارننگ دی ہے کہ ایران اپنی جغرافیائی سرحدوں، خودمختاری اور قومی سلامتی کے خلاف کسی بھی قسم کی دراندازی یا جارحیت کا انتہائی منہ توڑ اور بھرپور جواب دینے کا مکمل اور آئینی حق محفوظ رکھتا ہے۔ بیان میں مزید ایک انتہائی جذباتی اور سیاسی پہلو کا ذکر کرتے ہوئے یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکا نے دانستہ طور پر ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کے انتہائی سوگوار موقع پر فضائی حملے کر کے اس تاریخی اور مذہبی موقع کی اہمیت و تقدس کو پامال کرنے اور ایرانی قوم کے حوصلے پست کرنے کی مذموم کوشش کی تھی، تاہم ایرانی قوم، اس کی قیادت اور مسلح افواج کسی بھی قسم کے عالمی دباؤ، دھمکیوں یا فوجی جارحیت کے سامنے ہرگز گھٹنے نہیں ٹیکیں گی اور ڈٹ کر مقابلہ کریں گی۔

دوسری جانب، اس انتہائی سنسنی خیز اور عالمی جنگ کے خدشات کو جنم دینے والی خبر کے منظرِ عام پر آنے کے بعد تاحال ریاستہائے متحدہ امریکا کے محکمۂ دفاع (پینٹاگون)، وائٹ ہاؤس، اور حملے کی زد میں آنے والے خلیجی ممالک بحرین اور کویت کی حکومتوں کی جانب سے فوری طور پر کوئی بھی باضابطہ سرکاری ردعمل، تردید یا تصدیق سامنے نہیں آئی ہے۔ اس پراسرار خاموشی نے عالمی سطح پر بے چینی اور سسپنس میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ مزید برآں، آزاد بین الاقوامی مبصرین، عالمی خبر رساں اداروں اور سیٹلائٹ امیجری کے ذرائع سے بھی اب تک ان حملوں کی نوعیت، ان کے نتیجے میں ہونے والے جانی یا مالی نقصانات، اور امریکی فوجی تنصیبات پر پڑنے والے اثرات کی کوئی حتمی اور آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ عالمی دفاعی اور سیاسی تجزیہ کاروں نے اس انتہائی کشیدہ صورتِ حال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کی جانب سے کیے گئے ان 85 اہداف پر میزائل اور ڈرون حملوں کے دعوے کی تصدیق ہو جاتی ہے، تو یہ خلیجی خطے کی تاریخ میں کشیدگی کی ایک ایسی بے مثال اور خطرناک ترین لہر کو جنم دے گا، جس کو سنبھالنا کسی بھی عالمی طاقت کے بس میں نہیں رہے گا۔ اس صورتِ حال کے نتیجے میں ایران اور امریکا کے درمیان دہائیوں سے جاری سیاسی اور پراکسی بحران ایک ایسے نئے اور تباہ کن مرحلے میں داخل ہو جائے گا، جہاں سے واپسی کا کوئی راستہ ممکن نہیں ہوگا اور پوری دنیا کو ایک نئی عالمی جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کرے گا، جس سے خطے کا امن اور عالمی معیشت مکمل طور پر تباہ ہو جائے گی۔

اپنا تبصرہ لکھیں