Pakistan Navy warship PNS Zulfiquar sailing in the sea for a search and rescue operation.

🚨 شارجہ سے کراچی آنے والا کارگو طیارہ خلیج میں لاپتا، بحری و فضائیہ کا سب سے بڑا ریسکیو آپریشن شروع!

کراچی (اسٹاف رپورٹر) 8 جولائی 2026

شارجہ سے کراچی آنے والا کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 734 کارگو طیارہ کراچی سے مغرب میں 155 ناٹیکل میل دور خلیج میں اچانک ریڈار سے غائب ہو گیا ہے، جس میں عملے کے 5 ارکان سوار ہیں۔ پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی (پی اے اے) نے اس ہولناک واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ بدقسمت فیری فلائٹ (خالی طیارہ) نمبر کے ٹی اے 1732 نے رات کو نیویگیشنل سسٹم میں شدید خرابی کی اطلاع دی تھی۔ کراچی ایریا کنٹرول سینٹر نے فوری طور پر پائلٹ کی رہنمائی کی کوشش کی، لیکن رات 9 بج کر 21 منٹ پر یہ طیارہ ریڈار پر انتہائی خطرناک رفتار سے نیچے آتا ہوا دیکھا گیا۔ ابتدائی رپورٹ کے مطابق، طیارہ اچانک دائیں جانب مڑا اور تقریباً 15 ہزار فٹ فی منٹ کی تباہ کن رفتار سے بلندی کھوتے ہوئے ریڈار سے غائب ہو گیا۔ ایئر ٹریفک کنٹرول (ATC) کی متعدد ہنگامی کالز کے باوجود طیارے کے عملے کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا، جس کے بعد ریسکیو کوآرڈینیشن سینٹر کو فوری طور پر ہائی الرٹ پر فعال کر دیا گیا ہے۔

اس انتہائی حساس اور ہنگامی صورتِ حال کے بعد حکومتِ پاکستان اور مسلح افواج نے سمندر میں اب تک کا سب سے بڑا مشترکہ سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن شروع کر دیا ہے۔ پاک بحریہ کے دو جدید ترین جنگی جہاز، پی این ایس ذوالفقار اور پی این ایس حنین، تمام تر امدادی سازوسامان کے ساتھ بحیرہ عرب میں ممکنہ حادثے کے مقام کی طرف روانہ ہو چکے ہیں۔ فضائی نگرانی اور طیارے کے ملبے کا سراغ لگانے کے لیے پاک فضائیہ کا جدید ترین ‘ساب’ (Saab) طیارہ اور پاک بحریہ کا ‘اے ٹی آر’ (ATR) طیارہ تربت سے اڑان بھر کر بحری حدود میں تفتیشی پروازیں کر رہے ہیں۔ پاکستان میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی نے بھی اورماڑہ کے ساحلی علاقے کے قریب اپنے تیز رفتار ریسکیو بوٹس اور خصوصی ‘ڈیفینڈر’ طیارے کو سرچ آپریشن کا حصہ بنا دیا ہے، جبکہ پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کے تجارتی بحری جہاز ‘لاہور’ کو بھی متاثرہ زون کی طرف موڑ دیا گیا ہے تاکہ سمندری سطح پر کسی بھی قسم کے شواہد کو اکٹھا کیا جا سکے۔

ذرائع کے مطابق، یہ بدقسمت طیارہ (رجسٹریشن نمبر AP-BOI) گزشتہ 5 روز سے شارجہ میں موجود تھا جہاں ‘ناردرن ٹیکنیکس’ نامی کمپنی سے اس کی فنی خرابی کی مرمت کروائی گئی تھی اور یہ کراچی واپس لینڈنگ کے لیے آ رہا تھا۔ طیارے میں سوار عملے کے پانچ افراد میں انتہائی تجربہ کار پائلٹ محمد رضوان ادریس، معاون پائلٹ فیصل جتوئی، چیف انجینئر محمد حامد، محمد عارف صدیقی اور لوڈ ماسٹر محمد توفیق خان شامل ہیں۔ اسکائی ونگز ایوی ایشن اور ایدھی ایئر اسٹاف کو بھی اورماڑہ اور پسنی کے ساحلی علاقوں میں ممکنہ ایمرجنسی سے نمٹنے کے لیے الرٹ پر رکھا گیا ہے، جبکہ سول ہوا بازی کے کراچی ہینگر میں بھی دیگر سرویلنس طیاروں کی ری فیولینگ ہنگامی بنیادوں پر جاری ہے۔ تمام تر سیکیورٹی ادارے اس وقت مشترکہ طور پر گہرے سمندر میں عملے کی زندگیوں کو بچانے اور طیارے کا سراغ لگانے کے لیے مصروفِ عمل ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں