Civil Hospital Karachi mortuary building or a police vehicle parked outside.

کراچی میں درندگی کی انتہا، 6 سالہ معصوم محمد ولی زیادتی کے بعد قتل، سفاک پڑوسی نے بوری بند لاش تیسری منزل سے نیچے پھینک دی!

کراچی (کرائم رپورٹر) 8 جولائی 2026

شہرِ قائد کے علاقے لی مارکیٹ کی پنجابی گلی میں ظلم و بربریت کا ایک ایسا لرزہ خیز اور دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے جس نے پوری انسانیت کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ پیر کے روز گھر کے باہر سے چیز لینے کی غرض سے نکلنے والا 6 سالہ معصوم محمد ولی، جو چار بہنوں کا اکلوتا بھائی اور سب سے چھوٹا لاڈلہ تھا، اغوا اور مبینہ زیادتی کے بعد بیدردی سے قتل کر دیا گیا ہے۔ مقتول بچے کی مسخ شدہ بوری بند لاش کو ملزم نے بدحواسی میں اپنے ہی گھر کی تیسری منزل سے نیچے ایک خالی پلاٹ میں پھینک دیا، جس کی بھاری آواز سن کر جب اہل محلہ موقع پر پہنچے تو بوری سے معصوم ولی کی لاش برآمد ہوئی۔ اس ہولناک منظر کو دیکھ کر پورے علاقے میں کہرام مچ گیا، جبکہ رکشہ ڈرائیور والد عابد حسین اور سوگوار والدہ پر قیامت ٹوٹ پڑی۔ مشتعل اہل علاقہ نے فوری طور پر تیسری منزل پر موجود حمزہ نامی سفاک ملزم کو پکڑ کر شدید تشدد کا نشانہ بنایا اور بعد میں اسے نیپئر پولیس کے حوالے کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق، مقتول بچے کے لاپتا ہونے کا مقدمہ ایک روز قبل نیپئر تھانے میں اغوا کی دفعات کے تحت درج کرایا گیا تھا، جس کے بعد پولیس، اہل خانہ اور اہل محلہ دو روز تک بچے کی تلاش میں مارے مارے پھرتے رہے۔ انتہائی افسوسناک بات یہ ہے کہ گرفتار ملزم حمزہ، جو کہ مقتول کا پڑوسی ہے، دو روز تک خود بھی معصوم ولی کی تلاش کا ڈراما رچاتا رہا اور متاثرہ خاندان کے ساتھ ہمدردی کا ناٹک کرتا رہا تاکہ کسی کو اس پر شک نہ ہو۔ اہل علاقہ اور عینی شاہدین کے مطابق، یہ ہولناک واردات پڑوسی کے گھر کے ایک کمرے میں ہی پیش آئی جہاں لاش رکھی گئی تھی اور وہاں خون کے وافر نشانات بھی ملے ہیں۔ جب محلے داروں نے ملزم سے اس مخصوص کمرے کی تلاشی لینے کا کہا تو اس نے چابی نہ ہونے کا جھوٹا بہانہ بناتے ہوئے کہا کہ کمرے کے تالے کی چابی اس کی بھابھی اپنے ساتھ پنجاب لے گئی ہیں، جس کی وجہ سے تلاشی نہ لی جا سکی۔ ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات اور پوسٹ مارٹم رپورٹ سے یہ ہولناک انکشاف ہوا ہے کہ بچے کو قتل کرنے سے پہلے اسے درندگی اور زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ ملزم کو نیپئر تھانے میں درج مقدمہ نمبر 92/26 میں باقاعدہ نامزد کر کے تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔

اپنے اکلوتے جگر کے ٹکڑے کی اس طرح ناگہانی موت پر غم سے نڈھال اور ٹوٹی ہوئی والدہ نے زاروقطار روتے ہوئے سندھ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ “خون کا بدلہ خون” سے لیا جائے اور قاتل کو سرِعام پھانسی دی جائے، کیونکہ یہ ایک عادی مجرم ہے جو کل کو کسی اور کے معصوم بچے کو اپنی درندگی کا نشانہ بنا سکتا ہے۔ مقتول کی بڑی بہن ماہ نور اپنے بھائی کی لاش سے لپٹ کر روتی رہی کہ اس معصوم کا کیا قصور تھا۔ دوسری جانب، ہسپتال کے مردہ خانے کے باہر سیاسی و سماجی رہنماؤں اور مکینوں نے پولیس کی غفلت پر بھی شدید احتجاج کیا، جن کا کہنا تھا کہ اگر پولیس وقت پر ملزم کے مقفل کمرے کا تالا توڑ کر تلاشی لے لیتی تو شاید معصوم کی جان بچ جاتی۔ دورانِ حراست ملزم نے اعتراف کیا ہے کہ دونوں خاندانوں کے درمیان پرانی ذاتی رنجش تھی جس کا بدلہ اس نے اس معصوم بچے سے لیا، جبکہ محلے داروں کے مطابق ملزم کے گھر کے دیگر 2 مفرور افراد کی گرفتاری کے لیے بھی چھاپے مارے جا رہے ہیں تاکہ اس سفاکانہ جرم میں شامل تمام کرداروں کو عبرتناک انجام تک پہنچایا جا سکے۔

اپنا تبصرہ لکھیں