Mud and debris from a landslide covering temporary shelters in a rain-hit refugee camp.

بنگلادیش میں قیامت خیز مون سون آفت: روہنگیا مہاجرین کیمپ کے مدرسے پر مٹی کا تودہ گرنے سے 8 معصوم بچے جاں بحق!

ڈھاکہ (ویب ڈیسک) 9 جولائی 2026

بنگلادیش کے جنوب مشرقی ضلع کاکس بازار میں قائم دنیا کے سب سے بڑے روہنگیا مہاجر کیمپ سے ایک انتہائی دل دوز اور افسوسناک خبر سامنے آئی ہے، جہاں طوفانی مون سون بارشوں کے نتیجے میں ہونے والی لینڈ سلائیڈنگ (مٹی کا تودہ گرنے) کی زد میں آ کر ایک پورا مدرسہ زمین بوس ہو گیا۔ عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق، طوفانی بارش کے دوران پہاڑی کا ایک بہت بڑا حصہ اچانک بھر بھرا کر نیچے قائم مدرسے کی عارضی عمارت پر آ گرا، جس کے نتیجے میں متعدد معصوم بچے منوں مٹی اور ملبے تلے دب گئے۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی کیمپ کے مکینوں اور امدادی اداروں نے اپنی مدد آپ کے تحت ریسکیو آپریشن شروع کیا، تاہم مسلسل بارش اور خراب موسم کے باعث امدادی کاموں میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ریسکیو ٹیموں نے ملبے سے 8 معصوم بچوں کی لاشیں نکال لیں، جبکہ 5 بچوں کو شدید زخمی اور تشویشناک حالت میں قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

کاکس بازار کی ضلعی انتظامیہ کے مطابق، گزشتہ کئی روز سے جاری مسلسل اور ریکارڈ توڑ مون سون بارشوں نے پورے پہاڑی علاقے کی مٹی کو نرم کر دیا ہے، جس کے باعث لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات خطرناک حد تک بڑھ چکے ہیں۔ ان مہاجر کیمپوں میں بنیادی انفرا اسٹرکچر نہ ہونے کے برابر ہے اور لاکھوں پناہ گزین خاندان بانس، لکڑی، مٹی اور ترپال سے بنی انتہائی کمزور عارضی جھونپڑیوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ یہ عارضی پناہ گاہیں تیز ہواؤں، سیلابی ریلوں اور مٹی کے تودے گرنے جیسے قدرتی حادثات کے سامنے بالکل بے بس اور غیر محفوظ ثابت ہوتی ہیں۔ گزشتہ چند دنوں کے دوران بھی بارشوں اور سیلابی صورتِ حال کے باعث ہونے والے مختلف حادثات میں متعدد روہنگیا مہاجر اپنی جانیں گنوا چکے ہیں، جس کے بعد اب ان کیمپوں میں خوف و ہراس کی لہر دوڑ گئی ہے۔

اس لرزہ خیز حادثے کے بعد ضلعی انتظامیہ، اقوامِ متحدہ کے ذیلی اداروں اور مقامی فلاحی تنظیموں نے پہاڑیوں کے دامن اور انتہائی حساس مقامات پر قائم جھونپڑیوں سے خاندانوں کو ہنگامی بنیادوں پر محفوظ مقامات اور عارضی پناہ گاہوں میں منتقل کرنے کا عمل تیز کر دیا ہے۔ محکمہ موسمیات نے خطرے کی گھنٹی بجاتے ہوئے الرٹ جاری کیا ہے کہ آئندہ چند روز تک خطے میں مزید موسلا دھار بارشیں، سیلابی ریلے اور لینڈ سلائیڈنگ کے شدید خدشات برقرار رہیں گے۔ واضح رہے کہ سال 2017 میں میانمار (برما) کی ریاست رخائن میں فوجی آپریشن اور نسلی کشی کے بعد اپنی جانیں بچانے کے لیے لاکھوں مظلوم روہنگیا مسلمان ہجرت کر کے بنگلادیش پہنچے تھے، اور اس وقت کاکس بازار کے ان گنجان ترین اور کٹھن مہاجر کیمپوں میں تقریباً 12 لاکھ روہنگیا پناہ گزین انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں