واشنگٹن/تہران (ویب ڈیسک) 9 جولائی 2026
مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید ترین فوجی کشیدگی اب ایک انتہائی ہولناک اور براہ راست جنگ کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ امریکی افواج نے ایرانی سرزمین کے اندر اسٹریٹجک ساحلی علاقوں پر ایک اور بڑا اور وسیع پیمانے کا فضائی حملہ کر دیا ہے، جس کے بعد ایران کے متعدد اہم ترین شہر شدید دھماکوں کی آوازوں سے لرز اٹھے ہیں۔ ایرانی سرکاری میڈیا اور بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق، ایران کے جنوبی اور جنوب مشرقی ساحلی علاقوں بشمول سرک، بندر عباس، کونارک اور چابہار کے قریب یکے بعد دیگرے کئی زور دار دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ ان حملوں کے فوری بعد ایران کا ملٹری ایئر ڈیفنس (فضائی دفاعی نظام) انتہائی ہائی الرٹ پر فعال ہو گیا اور آسمان میں دشمن کے میزائلوں اور جنگی طیاروں کا مقابلہ کرنے لگا۔ غیر ملکی خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق، اسٹریٹجک اہمیت کے حامل شہر چابہار میں ان ہولناک دھماکوں کے فوری بعد پوری سٹی کی بجلی مکمل طور پر منقطع ہو گئی اور اندھیرا چھا گیا، جبکہ ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے ‘آئی آر آئی بی’ (IRIB) نے تصدیق کی ہے کہ اکیلے جنوبی ساحلی شہر میں کم از کم 8 شدید دھماکے سنے گئے جس کے بعد پورا خطہ جنگی زون میں تبدیل ہو چکا ہے۔
دوسری جانب، امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) اور امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے ایران کے خلاف اس نئی اور براہ راست عسکری کارروائی کی باقاعدہ تصدیق کر دی ہے۔ امریکی فوج کی جانب سے جاری کردہ ہنگامی بیان میں کہا گیا ہے کہ ان فضائی اور میزائل حملوں کا بنیادی مقصد آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) جیسی بین الاقوامی آبی گزرگاہ میں عالمی جہاز رانی، آزاد تجارت اور نیویگیشن کی آزادی کو لاحق ایرانی خطرات اور اس کی عسکری صلاحیتوں کو مستقل طور پر کمزور کرنا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق، اس جوابی کارروائی میں ایران کے ساحلی علاقوں میں نصب جدید فضائی دفاعی نظام، کوسٹل ریڈار اسٹیشنز، اینٹی شپ میزائل تنصیبات (بحری جہاز شکن میزائل لانچرز) اور دیگر اہم عسکری اڈوں کو انتہائی باریک بینی سے ہدف بنا کر تباہ کیا گیا ہے۔ سینٹکام کا کہنا ہے کہ امریکا اس بین الاقوامی اہمیت کی حامل آبی گزرگاہ میں آزادانہ طور پر سفر کرنے والے تجارتی جہازوں اور ان کے معصوم شہری عملے کے خلاف ایران کی حالیہ بلاجواز بحری جارحیت پر تہران کو ہر صورت جواب دہ ٹھہرا رہا ہے اور یہ کارروائی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔
ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ‘ارنا’ (IRNA) نے اس امریکی حملے کے نتیجے میں ہونے والے جانی و مالی نقصانات کی ابتدائی تفصیلات جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ امریکی جنگی طیاروں نے جنوب مشرقی ایران میں واقع ‘ایرانشہر ایئرپورٹ’ کی اہم تنصیبات اور رن وے کو بھی شدید نشانہ بنایا ہے، جس کے نتیجے میں ایئرپورٹ پر ڈیوٹی سرانجام دینے والا ایک سول فائر فائٹر جاں بحق ہو گیا ہے۔ تہران حکومت اور ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اس امریکی عسکری کارروائی کو ایران کی خودمختاری اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی اور سنگین ترین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اسے کھلی ‘امریکی جارحیت’ قرار دیا ہے، اور واشنگٹن کو وارننگ دی ہے کہ اس کا انتہائی سخت اور عبرتناک ردعمل دیا جائے گا۔ عالمی دفاعی تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان جاری یہ براہ راست فضائی اور میزائل جنگ مشرقِ وسطیٰ کو ایک ایسی بڑی تباہی کی طرف دھکیل رہی ہے جہاں سے عالمی معیشت اور عالمی امن کا بچنا ناممکن نظر آ رہا ہے، اور خطے میں کشیدگی اب کنٹرول سے باہر ہو چکی ہے۔
