کراچی (ویب ڈیسک) 10 جولائی 2026
سوشل میڈیا صارفین کے لیے سیکیورٹی ماہرین نے خطرے کی بڑی گھنٹی بجا دی ہے۔ اگر آپ فیس بک پر اپنی روزمرہ زندگی، تصاویر یا خیالات کو ‘پبلک’ (عوامی) پرائیویسی کے ساتھ شیئر کرتے ہیں، تو اب انتہائی محتاط ہو جائیں۔ ماہرین نے سخت انتباہ جاری کیا ہے کہ فیس بک پر کی جانے والی پبلک پوسٹس مستقبل میں مصنوعی ذہانت (AI) کے جدید ترین سرچ ٹولز کے ذریعے سیکنڈوں میں تلاش کی جا سکیں گی، جس سے صارفین کی آن لائن سیکیورٹی اور رازداری شدید خطرات کی زد میں آ گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، فیس بک اپنے پلیٹ فارم پر ایک ایسا انقلابی اے آئی سرچ فیچر متعارف کرانے کی تیاری کر رہا ہے جو روایتی سرچ بار کے برعکس ایک سمارٹ چیٹ اسسٹنٹ کی طرح کام کرے گا۔ اس فیچر کے فعال ہونے کے بعد کوئی بھی شخص یا سائبر کرائم مافیا آپ کی برسوں پرانی پبلک پوسٹس، پرانے تبصروں اور ذاتی معلومات کا ڈیٹا چند لمحوں میں نکال سکے گا، جو پہلے ہزاروں پوسٹس کے ڈھیر میں ڈھونڈنا ناممکن تھا۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی سے جہاں معلومات تک رسائی آسان ہوگی، وہی اس کا سب سے ہولناک پہلو یہ ہے کہ انٹرنیٹ پر سرگرم دھوکے باز، ہیکرز اور بلیک میلرز اس اے آئی سرچ کا ڈیٹا بیس استعمال کر کے صارفین کا مکمل پروفائل تیار کر سکیں گے۔ اگر آپ نے ماضی میں کسی ذاتی تنازع، مالی معاملے، یا کسی حساس موضوع پر پبلک پوسٹ کی ہوگی، تو یہ مافیا اسے آپ کے خلاف استعمال کر کے فائنینشل فراڈ، شناخت کی چوری (Identity Theft) یا آن لائن دھوکا دہی کا نشانہ زیادہ آسانی سے بنا سکے گا۔ ماہرین نے اس حوالے سے شدید حیرت کا اظہار کیا کہ موجودہ سیکیورٹی لوزنگ کی وجہ سے ٹیکنالوجی کا غلط استعمال بڑھ رہا ہے، یہاں تک کہ فیس بک کے الگورتھم کی غلطیوں کی وجہ سے حال ہی میں ایک زندہ خاتون کو بھی پروفائل پر مردہ (Memorialized) بنا دیا گیا، جو کہ سسٹم کی بڑی خامی کو ظاہر کرتا ہے۔
اس ابھرتے ہوئے ڈیجیٹل خطرے سے نمٹنے کے لیے سائبر سیکیورٹی ماہرین نے صارفین کو فوری طور پر کچھ حفاظتی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ صارفین کو چاہیے کہ وہ فیس بک پر اپنی پوسٹس کی پرائیویسی کو ہمیشہ ‘پبلک’ کے بجائے ‘فرینڈز’ (Friends) یا محدود حلقے تک رکھیں۔ اس کے علاوہ، فیس بک پر موجود ایک انتہائی مفید فیچر “Limit Past Posts” کا استعمال فوری طور پر کریں؛ اس آپشن کو آن کرنے سے آپ کی ماضی میں کی جانے والی تمام پرانی پبلک پوسٹس خود بخود صرف آپ کے دوستوں تک محدود ہو جائیں گی اور اے آئی سرچ کی پہنچ سے باہر ہو جائیں گی۔ ماہرین نے زور دیا ہے کہ صارفین وقتاً فوقتاً اپنی پرائیویسی سیٹنگز کا آڈٹ کرتے رہیں اور سوشل میڈیا پر ایسی کوئی بھی حساس معلومات شیئر کرنے سے مکمل گریز کریں جو مستقبل میں ان کے یا ان کے خاندان کے لیے کسی بڑے مالی یا جانی نقصان کا سبب بن سکے۔
