کراچی (ویب ڈیسک) 1 جولائی 2026
خیبر پختونخوا کے مشہور و معروف سیاحتی مقام ناران میں سوشل میڈیا ایپ ‘ٹک ٹاک’ (TikTok) پر سستی شہرت اور ویڈیو بنانے کا جنون چند منچلے سیاحوں کو انتہائی مہنگا پڑ گیا ہے۔ وادیٔ ناران کی سیر کو آئے ہوئے منچلے سیاحوں نے ویڈیو شوٹ کرنے کے شوق میں اپنی تیز رفتار گاڑی کو سڑک سے اتار کر سیدھا بپھرے ہوئے دریائے کنہار کے تیز اور گہرے پانی کے اندر ڈال دیا۔ دریا کے تیز بہاؤ اور پانی گہرا ہونے کے باعث گاڑی دیکھتے ہی دیکھتے دریا کے بیچوں بیچ جا کر پھنس گئی اور ڈوبنے لگی، جس سے گاڑی میں سوار افراد کی جانیں شدید خطرے میں پڑ گئیں۔ اس خوفناک واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر آتے ہی تیزی سے وائرل ہو گئی ہے، جس پر صارفین کی جانب سے شدید ردعمل اور غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق، یہ خطرناک اور حیران کن واقعہ ناران کے مقام پر دریائے کنہار کے ایک گہرے موڑ پر پیش آیا۔ کاغان ڈویلپمنٹ اتھارٹی (KDA) کے حکام نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے میڈیا کو بتایا کہ چند نادان سیاح دریا کے کنارے پر کھڑے ہو کر خطرناک انداز میں ٹک ٹاک ویڈیوز عکسبند کر رہے تھے کہ اسی دوران انہوں نے اپنی گاڑی پانی کے اندر اتار دی۔ پانی کی گہرائی اور تیز لہروں کا صحیح اندازہ نہ ہونے کے باعث گاڑی وہیں جام ہو کر رہ گئی اور اس میں موجود سیاحوں کی چیخیں نکل گئیں۔ دریا کے بیچ میں گاڑی ڈوبنے اور سیاحوں کی جان خطرے میں ہونے کی سنسنی خیز اطلاع ملتے ہی کے ڈی اے (KDA) انتظامیہ کے اعلیٰ حکام نے فوری ایکشن لیا۔
کے ڈی اے حکام نے انسانی ہمدردی اور ہنگامی بنیادوں پر کارروائی کرتے ہوئے اپنی لائف سیونگ ریسکیو بوٹ (امدادی کشتی) اور ماہر لائف گارڈز کی ٹیم کو فوری طور پر دریا کے اندر روانہ کیا۔ ریسکیو ٹیم نے تیز لہروں کے باوجود انتہائی پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ڈوبتی ہوئی گاڑی تک رسائی حاصل کی اور اس کے اندر محصور، زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا چاروں سیاحوں کو بحفاظت نکال کر محفوظ مقام پر منتقل کر لیا۔ کے ڈی اے حکام کا کہنا ہے کہ ریسکیو بوٹ کی بروقت کارروائی کی وجہ سے ایک بہت بڑا جانی نقصان ہونے سے بچ گیا ہے، ورنہ پانی کا تیز بہاؤ سیاحوں کو بہا کر لے جا سکتا تھا۔
کاغان ڈویلپمنٹ اتھارٹی (KDA) کی ریسکیو ٹیموں اور مقامی انتظامیہ کے مطابق، سیاحوں کو نکالنے کے بعد اب دریا کے تیز اور گہرے پانی میں پھنسی ہوئی بھاری گاڑی کو محفوظ طریقے سے باہر نکالنے کے لیے کرین اور رسیوں کی مدد سے ریسکیو کا عمل تاحال جاری ہے۔ دوسری جانب، ٹورازم پولیس اور مقامی انتظامیہ نے اس واقعے پر سخت افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ناران اور کاغان آنے والے تمام ملکی و غیر ملکی سیاحوں کو سخت تاکید کی ہے کہ وہ دریا کے کنارے لگی حفاظتی گائیڈ لائنز پر سختی سے عمل کریں اور صرف چند لائیکس اور ویوز کی خاطر اپنی اور اپنے پیاروں کی قیمتی زندگیوں کو داؤ پر لگانے سے مکمل گریز کریں۔
