پشاور (ویب ڈیسک) 12 جولائی 2026
خیبر پختونخوا کے بالائی اور پہاڑی اضلاع کے لیے خطرے کی بڑی گھنٹی بج گئی ہے۔ محکمہ موسمیات (PMD) نے صوبے کے بالائی حصوں کے حساس مقامات پر موسلادھار بارشوں کے باعث ہولناک لینڈ سلائیڈنگ (پہاڑی تودے گرنے) اور ندی نالوں میں اچانک سیلاب (Flash Floods) آنے کا سنگین خدشہ ظاہر کر دیا ہے۔ پی ڈی ایم اے (PDMA) اور محکمہ موسمیات کی جانب سے جاری کردہ الرٹ کے مطابق، مون سون کے اس شدید اسپیل کے دوران طوفانی آندھی، تیز ہواؤں اور شدید آسمانی بجلی گرنے کا بھی امکان ہے، جس سے سولر پینلز، بجلی کے کھمبوں، ہائی وولٹیج تاروں اور کچے مکانات سمیت بل بورڈز جیسے کمزور ڈھانچوں کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ صوبائی حکام نے سیاحوں اور مقامی آبادی کو پہاڑی سلسلوں کی طرف غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی سخت ہدایت کی ہے۔
چیف میٹرولوجسٹ کے مطابق، چترال (اپر و لوئر)، دیر (اپر و لوئر)، سوات، شانگلہ، مالاکنڈ، بونیر، باجوڑ، کوہستان (اپر و لوئر)، کولائی پالس اور تورغر کے اضلاع میں گرج چمک اور تیز آندھی کے ساتھ مائلڈ سے ہیوی رین فال متوقع ہے۔ اس کے علاوہ بٹگرام، مانسہرہ، ایبٹ آباد، ہری پور، مردان، صوابی، مہمند، خیبر، پشاور، نوشہرہ، چارسدہ، کوہاٹ، کرک، ہنگو، کرم اور اورکزئی میں بھی بادل گرجیں گے، جبکہ بنوں، ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک اور وزیرستان کے اضلاع میں تیز دھول اڑاتی ہواؤں اور آندھی کے ساتھ موسلادھار بارش کی پیشگوئی کی گئی ہے۔ دوسری جانب صوبے کے بیشتر وسطی اضلاع میں مطلع جزوی ابر آلود رہے گا جبکہ جنوبی اضلاع میں شدید گرمی اور حبس برقرار رہنے کا امکان ہے۔
گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران صوبے میں ہونے والی بارشوں کا آفیشل ڈیٹا جاری کرتے ہوئے محکمہ موسمیات نے بتایا کہ سب سے زیادہ بارش کاکول میں 59 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی، جبکہ باجوڑ میں 29، مالم جبہ میں 13، بنوں میں 12، دیر و کالام میں 7، ڈیرہ اسماعیل خان اور سوات میں 5 اور صوبائی دارالحکومت پشاور میں 2 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ درجہ حرارت کے لحاظ سے گزشتہ روز ڈیرہ اسماعیل خان 40 ڈگری سینٹی گریڈ کے ساتھ صوبے کا گرم ترین علاقہ رہا، جبکہ چترال میں 38، پشاور میں 36، مالم جبہ و بنوں میں 34 اور حسین وادی کالام میں کم سے کم یعنی 27 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا۔ انتظامیہ نے تمام ریسکیو اداروں کو ہائی الرٹ رہنے کا حکم دے دیا ہے۔
