دوحہ (ویب ڈیسک) 13 جولائی 2026
قطر کو دنیا کے امیر ترین اور بااثر ترین ممالک کی صف میں کھڑا کرنے والے جدید قطر کے اصل معمار اور سابق امیر شیخ حمد بن خلیفہ الثانی کو دارالحکومت دوحہ میں انتہائی عقیدت و احترام اور سادہ اسلامی رسومات کے مطابق سپردِ خاک کر دیا گیا ہے۔ قطری شاہی خاندان کے ترجمان کے مطابق، سابق امیر 74 برس کی عمر میں علالت کے بعد انتقال کر گئے تھے، جن کی رحلت پر خلیجی ممالک سمیت پوری مسلم امہ میں فضا سوگوار ہے۔ ان کے انتقال پر قطر میں سرکاری سطح پر سوگ کا اعلان کیا گیا ہے، جبکہ دنیا بھر کے عالمی رہنماؤں اور سفارت کاروں کی جانب سے تعزیتی پیغامات اور گہرے دکھ کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
آفیشل شیڈول کے مطابق، شیخ حمد بن خلیفہ الثانی کی نمازِ جنازہ مغرب کی نماز کے بعد دوحہ کی سب سے معروف اور تاریخی ‘امام محمد بن عبد الوہاب مسجد’ میں ادا کی گئی۔ جنازے میں شاہی خاندان کے چشم و چراغ، عرب ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکومتی و عسکری شخصیات اور ہزاروں شہریوں نے شرکت کر کے مرحوم کو الوداع کیا۔ نمازِ جنازہ کے بعد ان کے جسدِ خاکی کو ان کے صاحبزادے اور موجودہ امیرِ قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے خود کندھا دیا، جس کے بعد انہیں دوحہ کے شمال میں واقع لوسیل قبرستان میں لے جایا گیا، جہاں نم آنکھوں کے ساتھ ان کی تدفین کی گئی اور ملک و قوم کے لیے ان کی تاریخی خدمات پر زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔
شیخ حمد بن خلیفہ الثانی نے 1995 سے 2013 تک قطر پر حکمرانی کی اور اپنے 18 سالہ دورِ اقتدار میں ملک کی تقدیر بدل کر رکھ دی۔ انہوں نے مائع قدرتی گیس (LNG) کے وسیع ذخائر کو ترقی دے کر قطر کو دنیا کی سب سے بڑی معاشی طاقتوں میں شامل کیا، جبکہ عالمی میڈیا کا رخ موڑنے والے ‘الجزیرہ میڈیا نیٹ ورک’ کی بنیاد بھی 1996 میں انہوں نے ہی رکھی تھی۔ ان کی دور اندیش پالیسیوں کے باعث ہی قطر کو 2022 کے فیفا ورلڈ کپ جیسے میگا ایونٹ کی میزبانی ملی۔ سال 2013 میں انہوں نے رضاکارانہ طور پر اقتدار اپنے بیٹے شیخ تمیم کے حوالے کر کے خلیجی تاریخ میں جمہوریت اور سیاسی شعور کی ایک منفرد مثال قائم کی تھی، جسے ہمیشہ سنہری الفاظ میں یاد رکھا جائے گا۔
