Emirates and flydubai commercial airplanes parked at Dubai International Airport terminal gates.

اماراتی پروازوں کے لیے الرٹ: امریکا-ایران کشیدگی کے باعث فلائٹ روٹس تبدیل؛ مسافروں کو اہم ہدایات جاری!

دبئی/ابوظہبی (ویب ڈیسک) 13 جولائی 2026

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی حالیہ عسکری کشیدگی اور فضائی حدود پر عائد نئی پابندیوں کے باعث متحدہ عرب امارات (UAE) کی بڑی فضائی کمپنیوں نے اپنی پروازوں کے روٹس تبدیل کرنا شروع کر دیے ہیں۔ فلائٹ ڈیٹا فراہم کرنے والے اداروں کے مطابق، ایمریٹس (Emirates)، اتحاد ایئرویز (Etihad Airways) اور فلائی دبئی (flydubai) نے ہنگامی صورتحال کے باوجود آج 13 جولائی 2026 کو اپنا مسافر آپریشن کامیابی سے جاری رکھا ہوا ہے۔ دبئی انٹرنیشنل اور زاید انٹرنیشنل ایئرپورٹ (ابوظہبی) مکمل طور پر کھلے ہیں، تاہم ایئرلائنز کو حساس فضائی حدود سے بچنے کے لیے متبادل اور طویل راستوں کا سہارا لینا پڑ رہا ہے جس سے سفری دورانیے میں اضافہ ہو گیا ہے۔

ایوی ایشن ذرائع کے مطابق یو اے ای کی کسی بھی ایئرلائن نے اب تک اپنے پورے نیٹ ورک کو معطل کرنے کا کوئی اعلان نہیں کیا ہے، تاہم فلائٹ اویئر (FlightAware) کے لائیو ڈیٹا کے مطابق دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پیر کے روز کم از کم 72 پروازیں تاخیر کا شکار ہوئیں جبکہ 6 پروازیں منسوخ کی گئیں۔ ریاض، جدہ، دوحہ، بحرین اور تاشقند سے آنے والی طے شدہ پروازیں مسلسل لینڈ کر رہی ہیں لیکن طویل روٹس کی وجہ سے طیاروں کے ایندھن کے اخراجات بڑھ رہے ہیں اور کنیکٹنگ فلائٹس کے اوقات متاثر ہو رہے ہیں۔ یورپی ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی (EASA) نے ایران، عراق اور لبنان کی فضائی حدود کے لیے الرٹ 31 اگست 2026 تک برقرار رکھا ہوا ہے، جس کے باعث ایئرلائنز انتہائی محتاط فلائٹ پلاننگ کر رہی ہیں۔

موجودہ صورتحال کے پیشِ نظر تمام فضائی کمپنیوں نے مسافروں کے لیے اہم سفری گائیڈ لائنز اور ہدایات جاری کر دی ہیں۔ ایمریٹس نے اپنے تمام مسافروں کو تاکید کی ہے کہ وہ ایئرپورٹ روانہ ہونے سے قبل ‘Manage Your Booking’ پورٹل پر جا کر اپنے فون نمبر اور ای میل ایڈریس لازمی اپڈیٹ کریں تاکہ کسی بھی تبدیلی کی صورت میں انہیں فوری ایس ایم ایس مل سکے۔ دوسری جانب، فلائی دبئی نے طویل روٹس اور شدید رش کے باعث مسافروں کو فلائٹ کی روانگی سے کم از کم 4 گھنٹے قبل ایئرپورٹ پہنچنے کی ہدایت کی ہے، اور خبردار کیا ہے کہ جن مسافروں کا ٹرانزٹ ٹائم بہت کم ہے، وہ فلائٹس کی تاخیر کی وجہ سے اگلی پرواز چھوٹنے کے خطرے سے دوچار ہو سکتے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں