صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی کے انتہائی پوش اور محفوظ ترین علاقے ڈیفنس میں سیکیورٹی فرائض انجام دینے والے پولیس کے ایک جوان کی جانب سے مبینہ طور پر خودکشی کا انتہائی افسوسناک واقعہ سامنے آیا ہے، جس سے پولیس فورس اور اہل علاقہ میں سنسنی پھیل گئی ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق، ڈیفنس فیز 5 کے علاقے خیابانِ بدر پر واقع ایک بنگلے پر تعینات پولیس اہلکار نے مبینہ طور پر خود کو گولی مار کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا ہے۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی درخشاں پولیس اور ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچیں اور خون میں لت پت لاش کو قانونی و طبی کارروائی کے لیے جناح اسپتال منتقل کیا، جہاں ڈاکٹرز نے اس کی موت کی تصدیق کر دی ہے۔
جناح اسپتال میں لاش کی شناخت 40 سالہ دل مراد ولد صالح محمد کے نام سے ہوئی ہے۔ پولیس کے مطابق، متوفی کا تعلق سندھ پولیس ٹھٹھہ سے تھا اور وہ ان دنوں ڈیفنس کے خیابانِ بدر پر واقع معروف کاروباری شخصیت عبدالحمید میمن کے بنگلے پر سیکیورٹی گارڈ کی حیثیت سے اپنے فرائض سر انجام دے رہا تھا۔ واقعے کے فوری بعد یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ شاید گولی اتفاقیہ طور پر (مس ہینڈلنگ کے باعث) چلی ہے، جس سے اہلکار کی موت واقع ہوئی۔ تاہم، پولیس کی ابتدائی تحقیقات اور جائے وقوعہ سے ملنے والے شواہد سے یہ سنسنی خیز انکشاف ہوا ہے کہ متوفی نے مبینہ طور پر خود کو پیٹ پر گولی مار کر خودکشی کی ہے۔
درخشاں پولیس اور فرانزک ٹیموں نے جائے وقوعہ سے اسلحہ اور گولی کا خول اپنے قبضے میں لے کر واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تفصیلی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ابھی تک خودکشی کی اصل وجوہات کا علم نہیں ہو سکا ہے، تاہم متوفی کے اہل خانہ، ٹھٹھہ پولیس میں اس کے رفقائے کار اور بنگلے کے دیگر ملازمین سے بیانات قلمبند کیے جا رہے ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا وہ کسی قسم کے گھریلو یا ذہنی دباؤ کا شکار تو نہیں تھا۔ پولیس نے واقعے کی حتمی رپورٹ پوسٹ مارٹم کے مکمل شواہد سامنے آنے تک محفوظ کر لی ہے۔
