متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے مرکزی دفتر بہادر آباد میں گزشتہ روز دو گروپوں کے درمیان پیش آنے والے ناخوشگوار واقعے اور فائرنگ کی صورتحال پر پارٹی کے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کا باضابطہ ردعمل سامنے آ گیا ہے۔ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے اپنے بیان میں وضاحت کی ہے کہ ایم کیو ایم کے کارکنان کے درمیان کچھ غلط فہمیوں اور تلخ کلامی کی وجہ سے یہ ناخوشگوار واقعہ پیش آیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پارٹی کی مرکزی قیادت نے فوری طور پر مداخلت کرتے ہوئے تمام معاملے کا باریک بینی سے جائزہ لیا ہے، جس کے بعد اب صورتحال بہتر اور کنٹرول میں آ رہی ہے۔
دوسری جانب، کراچی پولیس نے واقعے کی تفصیلی تحقیقات کے حوالے سے نئے انکشافات کیے ہیں۔ پولیس کے مطابق بہادر آباد مرکز میں اصل جھگڑا رابطہ کمیٹی کے مرکزی کمرے میں شروع ہوا جہاں مختلف امور پر بحث کے دوران کارکنوں اور ذمہ داران کے درمیان شدید کشیدگی پیدا ہو گئی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ہنگامہ آرائی اور بھگدڑ کے دوران کچھ ناہل عناصر مرکز میں لگا سی سی ٹی وی کیمروں کا ڈی وی آر (DVR) سسٹم بھی اپنے ساتھ نکال کر لے گئے ہیں، تاکہ واقعے کی فوٹیج محفوظ نہ رہ سکے۔
پولیس حکام اور سیکیورٹی ادارے ڈی وی آر سسٹم کی غائب ہونے اور ہنگامہ آرائی کے تمام پہلوؤں کی باریک بینی سے تحقیقات کر رہے ہیں۔ پولیس کی جانب سے جائے وقوعہ سے تکنیکی شواہد اکٹھے کرنے اور قریبی عمارتوں کی فوٹیجز کا جائزہ لینے کا عمل جاری ہے تاکہ فائرنگ اور ہنگامے میں ملوث افراد کا تعاقب کیا جا سکے۔ پارٹی قیادت کا کہنا ہے کہ نظم و ضبط کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف داخلی سطح پر بھی سخت انضباطی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
