ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان نے فیڈرل بی ایریا ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (فباٹی) میں تاجروں اور صنعتکاروں سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ بیرونِ ملک بیٹھ کر مختلف موبائل ایپس کے ذریعے بھتہ خوری کا نیٹ ورک چلانے والے مجرموں کی گرفتاری کے لیے عالمی سطح پر کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جن بھتہ خور گروہوں کے سرغنوں کے ریڈ وارنٹ جاری کیے گئے تھے، وہ اب بین الاقوامی سطح پر مطلوب ملزمان میں شامل ہیں اور سندھ پولیس میں جدید ترین ٹیکنالوجی کا استعمال ناگزیر ہو چکا ہے۔ آزاد خان نے واضح کیا کہ کراچی ملک کا معاشی مرکز ہے، اور محدود وسائل کے باوجود اغوا برائے تاوان اور بھتہ خوری کے دو بڑے نیٹ ورکس کو حالیہ دنوں میں گرفتار کیا جا چکا ہے۔
ایڈیشنل آئی جی کراچی نے تاجروں کو شہر کی امن و امان کی صورتحال پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ کراچی سیف سٹی پروجیکٹ کے تحت اب تک 1,300 کیمرے نصب کیے جا چکے ہیں جبکہ مزید 2 ہزار کیمروں کی تنصیب کا کام جاری ہے جس کے بعد شہر میں ہزاروں مزید کیمرے لگائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں اب کوئی نو گو ایریا نہیں رہا اور پولیس ہر علاقے میں بلاتفریق کارروائیاں کر رہی ہے۔ تعلیمی اداروں میں منشیات کی روک تھام کے لیے خصوصی مہم جاری ہے، جبکہ چہلم اور یومِ شہداء کی سیکیورٹی کے حوالے سے فول پروف پلان تشکیل دیا گیا ہے، اور یومِ آزادی کی مناسبت سے بھی سیکیورٹی کے خصوصی اور غیر معمولی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
تقریب میں فباٹی کے صدر شیخ تحسین نے اپنے خطاب میں کہا کہ فیڈرل بی ایریا کا صنعتی زون دو ہزار سے زائد ایس ایم ایز پر مشتمل ہے جہاں لاکھوں افراد کا روزگار وابستہ ہے۔ انہوں نے فباٹی کو ماڈل زون بنانے، سرویلنس ٹیکنالوجی کو مزید مؤثر کرنے اور تجاوازت کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔ اس پر ایڈیشنل آئی جی آزاد خان نے یقین دہانی کرائی کہ انکروچمنٹ کے خاتمے کا نیا نظام ڈسٹرکٹ سینٹرل سے شروع کیا جا رہا ہے جبکہ صنعتی علاقوں میں ہوٹلوں کو بھی ریگولیٹ کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ تاجر رضا علی قتل کیس پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تحقیقاتی کمیٹی جذبات سے بالاتر ہو کر شواہد کی بنیاد پر فیصلے کرے گی۔
