بھارتی اداکارہ اور ریئلٹی ٹی وی اسٹار راکھی ساونت نے اپنے مذہبی عقائد اور ذاتی زندگی پر تنقید کرنے والوں کو کرارا جواب دیا ہے۔ بی بی سی کو دیے گئے ایک حالیہ انٹرویو میں انہوں نے اپنی روحانی زندگی کے حوالے سے کھل کر گفتگو کی اور ناقدین کو واضح پیغام دیا۔
انٹرویو کے دوران راکھی ساونت کا کہنا تھا کہ وہ باقاعدگی سے پانچوں وقت کی نماز ادا کرتی ہیں، تہجد پڑھتی ہیں، قرآن مجید کی تلاوت کرتی ہیں اور اب تک 8 مرتبہ عمرہ کی سعادت بھی حاصل کر چکی ہیں۔
اسلام قبول کرنے کا سفر اور ایمان پر قائم رہنے کا عزم
راکھی ساونت نے مئی 2022ء میں اپنے سابق شوہر عادل خان درانی سے نکاح کے وقت اسلام قبول کیا تھا اور بعد ازاں جنوری 2023ء میں علانیہ اپنے مذہب کی تبدیلی اور نیا نام ‘فاطمہ’ رکھنے کا اعلان کیا تھا۔ اداکارہ کا کہنا تھا کہ اگرچہ عادل کے ساتھ ان کا نکاح صرف 6 ماہ ہی چل سکا، لیکن شادی ختم ہونے کے باوجود ان کا اسلام پر ایمان مضبوط اور برقرار ہے۔
ناقدین کو سخت جواب
ان کے بالی ووڈ سے وابستہ ہونے اور مختصر لباس پہننے پر اعتراض اٹھانے والوں پر تنقید کرتے ہوئے راکھی نے کہا:
”ایمان انسان اور خدا کے درمیان ایک انتہائی ذاتی تعلق ہے اور میرا پیشہ اس کا تعین نہیں کر سکتا۔ میں بالی ووڈ میں صرف اپنے روزگار اور قرضوں کی ادائیگی کے لیے کام کرتی ہوں، کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ یہ فیصلہ کرے کہ میں مسلمان ہوں یا نہیں۔“
سوشل میڈیا پر ملا جلا ردعمل
راکھی ساونت کے ان بیانات کے سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین کی جانب سے مختلف آرائی دیکھنے میں آ رہی ہیں۔ کچھ لوگ ان کے اس موقف کو ان کا ذاتی معاملہ قرار دے کر ان کی حمایت کر رہے ہیں، جبکہ دیگر افراد ان کے شو بزنس سے وابستہ رہنے اور مذہبی دعووں پر اپنے تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔
