
پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام کی بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے کیونکہ ملک کی آبادی 25 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ انتظامی طور پر اب بھی صرف چار صوبے موجود ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑھتی
ہوئی آبادی اور شہری مسائل کے پیش نظر موجودہ نظام حکمرانی پر دباؤ بڑھ رہا ہے، جس کے باعث عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور وسائل کی منصفانہ تقسیم متاثر ہو رہی ہے۔
نئے صوبوں کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ چھوٹی انتظامی اکائیاں بہتر حکمرانی، تیز رفتار ترقی، مؤثر فیصلہ سازی اور عوام تک خدمات کی آسان رسائی کو ممکن بناتی ہیں۔ ان کے مطابق اس مطالبے کا مقصد لسانی یا نسلی تقسیم نہیں بلکہ انتظامی اصلاحات کے ذریعے ریاستی کارکردگی کو بہتر بنانا ہے۔
آئین پاکستان کا آرٹیکل 239 نئے صوبوں کے قیام کا واضح طریقہ کار فراہم کرتا ہے، جس کے تحت پارلیمنٹ اور متعلقہ صوبائی اسمبلی کی دو تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے، جبکہ آرٹیکل 140-A مقامی حکومتوں کو اختیارات منتقل کرنے پر زور دیتا ہے۔ تاہم ان آئینی شقوں پر مکمل عملدرآمد اب بھی ایک اہم سیاسی چیلنج سمجھا جاتا ہے۔
جنوبی پنجاب صوبے کا مطالبہ کئی دہائیوں سے زیر بحث ہے اور مختلف سیاسی جماعتیں اس کی حمایت کر چکی ہیں، لیکن عملی پیش رفت تاحال محدود رہی ہے۔ دوسری جانب بعض حلقوں کا مؤقف ہے کہ کسی بھی انتظامی تبدیلی کے دوران صوبائی خودمختاری، مالی وسائل کی تقسیم اور آئینی توازن کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔
دنیا کے کئی ممالک، جن میں ترکیہ، انڈونیشیا، امریکہ اور نیپال شامل ہیں، اپنی آبادی اور انتظامی ضروریات کے مطابق متعدد صوبوں یا ریاستوں پر مشتمل نظام رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں بھی یہ سوال مسلسل زیر بحث ہے کہ کیا بہتر حکمرانی کے لیے نئے صوبے وقت کی ضرورت بن چکے ہیں، یا موجودہ نظام کو مضبوط بلدیاتی اداروں اور مؤثر اصلاحات کے ذریعے زیادہ فعال بنایا جا سکتا ہے۔
