
مکہ مکرمہ میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان ہونے والا مشترکہ دفاعی معاہدہ محض تین برادر ممالک کے درمیان ایک سفارتی دستاویز نہیں، بلکہ بدلتے ہوئے عالمی اور علاقائی طاقت کے توازن میں ایک اہم تزویراتی پیش رفت ہے۔ یہ معاہدہ اس امر کی علامت ہے کہ پاکستان اب صرف جنوبی ایشیا کی جغرافیائی حدود تک محدود ایک ریاست نہیں، بلکہ خلیج، مشرقِ وسطیٰ اور وسیع تر مسلم دنیا کے سلامتی کے معاملات میں ایک مؤثر تزویراتی کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ معاہدے کا بنیادی تصور یہ ہے کہ تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر مسلح حملہ تینوں کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔ اگرچہ اس معاہدے کی تمام عملی اور عسکری تفصیلات ابھی مکمل طور پر منظرِ عام پر نہیں آئیں، تاہم اس کا سیاسی اور تزویراتی پیغام نہایت واضح ہے: پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ اپنی سلامتی کو باہمی تعاون، دفاعی شراکت اور اجتماعی بازداریت کے ذریعے مضبوط بنانا چاہتے ہیں۔ پاکستان کے لیے اس معاہدے کی اہمیت غیر معمولی ہے۔ ایک ایسی دنیا میں جہاں ریاستوں کی طاقت صرف عسکری صلاحیت سے نہیں بلکہ سفارتی روابط، جغرافیائی محلِ وقوع، معاشی استعداد اور تزویراتی شراکت داری سے متعین ہوتی ہے، پاکستان نے اپنی خارجہ پالیسی کے ایک اہم ستون کو مزید مضبوط کیا ہے۔ پاکستان کی جغرافیائی حیثیت اسے جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا، خلیج اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان ایک قدرتی رابطے کی حیثیت دیتی ہے۔ اب اس جغرافیے کے ساتھ پاکستان کی دفاعی صلاحیت بھی ایک منظم علاقائی شراکت داری کا حصہ بنتی دکھائی دے رہی ہے۔ پاکستان کی سب سے بڑی تزویراتی طاقت اس کی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیت، تجربہ اور دفاعی خود انحصاری ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں میں پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ، سرحدی سلامتی اور مختلف پیچیدہ عسکری چیلنجز کا سامنا کیا ہے۔ یہی عملی تجربہ پاکستان کو خطے کی سلامتی کے مباحث میں ایک منفرد مقام فراہم کرتا ہے۔ مکہ معاہدہ اس حقیقت کا اعتراف بھی ہے کہ پاکستان کی دفاعی صلاحیت صرف اپنی سرحدوں کے تحفظ تک محدود نہیں، بلکہ علاقائی استحکام میں بھی ایک اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ دوسری جانب سعودی عرب کے لیے پاکستان ایک ایسے قابلِ اعتماد دفاعی شراکت دار کی حیثیت رکھتا ہے جس کے ساتھ تاریخی، مذہبی، عوامی اور عسکری روابط کئی دہائیوں پر محیط ہیں۔ ترکیہ کی شمولیت اس شراکت داری کو مزید وسیع کرتی ہے۔ یوں تین مختلف جغرافیائی خطوں کی طاقتیں ایک ایسے فریم ورک میں اکٹھی ہوئی ہیں جس میں پاکستان کی عسکری قوت، سعودی عرب کی معاشی و جغرافیائی اہمیت اور ترکیہ کی دفاعی و صنعتی صلاحیت ایک دوسرے کی تکمیل کرتی ہیں۔ یہ معاہدہ کسی ریاست کے خلاف اعلانِ جنگ نہیں بلکہ اجتماعی دفاع اور بازداریت کے تصور پر مبنی ہے۔ یہی نکتہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کے لیے انتہائی اہم ہے۔ ایک ذمہ دار جوہری ریاست کی حیثیت سے پاکستان کو خطے میں طاقت کے استعمال کے بجائے طاقت کے متوازن استعمال اور مؤثر بازداریت کی پالیسی کو آگے بڑھانا چاہیے۔ مضبوط دفاع کا مقصد جنگ شروع کرنا نہیں، بلکہ جنگ کو روکنے کی صلاحیت پیدا کرنا ہے۔ پاکستان کے لیے اس معاہدے کا ایک اور اہم پہلو سفارتی ہے۔ موجودہ عالمی نظام میں بڑی طاقتوں کے درمیان مسابقت بڑھ رہی ہے اور مشرقِ وسطیٰ مسلسل تزویراتی کشمکش کا مرکز بنا ہوا ہے۔ ایسے ماحول میں پاکستان کا کسی ایک طاقت کے کیمپ میں محدود ہونے کے بجائے متعدد اہم ریاستوں کے ساتھ متوازن اور باہمی مفاد پر مبنی تعلقات قائم رکھنا اس کے قومی مفاد میں ہے۔ سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ گہری دفاعی شراکت داری پاکستان کی سفارتی گنجائش میں اضافہ کر سکتی ہے۔ تاہم پاکستان کے لیے دانش مندی اسی میں ہے کہ وہ اس معاہدے کو کسی مخصوص ملک کے خلاف محاذ آرائی کا ذریعہ نہ بننے دے۔ ایران پاکستان کا ہمسایہ ہے اور دونوں ممالک کے درمیان طویل سرحد موجود ہے۔ لہٰذا اسلام آباد کو اپنی دفاعی شراکت داری مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ علاقائی سفارت کاری، مذاکرات اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ متوازن تعلقات کو بھی برقرار رکھنا ہوگا۔ یہی ایک ذمہ دار اور خودمختار خارجہ پالیسی کی علامت ہوگی۔ مکہ مکرمہ میں ہونے والا یہ معاہدہ پاکستان کے لیے محض ایک دفاعی کامیابی نہیں بلکہ ریاستِ پاکستان کی بڑھتی ہوئی تزویراتی اہمیت کا اظہار ہے۔ یہ اس حقیقت کو نمایاں کرتا ہے کہ پاکستان کے پاس نہ صرف اپنے دفاع کی صلاحیت موجود ہے بلکہ وہ علاقائی سلامتی کے نئے نظام کی تشکیل میں بھی اپنا کردار ادا کر سکتا ہے۔ آج کی دنیا میں وہی ریاستیں مؤثر ہوتی ہیں جو اپنی سلامتی، خودمختاری اور قومی مفاد کے تحفظ کے ساتھ دوسروں کے لیے بھی قابلِ اعتماد شراکت دار بننے کی صلاحیت رکھتی ہوں۔ پاکستان کو اسی سمت میں آگے بڑھنا ہوگا۔ مکہ کا یہ معاہدہ ہمیں ایک واضح پیغام دیتا ہے: پاکستان اب محض بدلتے ہوئے عالمی نظام کا تماشائی نہیں، بلکہ اپنی تزویراتی صلاحیت، دفاعی قوت اور سفارتی وزن کے ذریعے اس نظام کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کرنے والی ریاست ہے۔
