
سبز ہلالی پرچم ہوا میں لہراتا محض کپڑے کا کوئی ٹکڑا نہیں، یہ کروڑوں دھڑکتے دلوں کا استعارہ ہے، ایک زندہ قوم کی روح کا عکس ہے۔ اس پرچم میں موجود سفید حصہ کوئی خالی پن یا محض ایک رنگ نہیں، بلکہ یہ وہ مقدس وعدہ، وہ الہامی ضمانت ہے جو اس دھرتی نے اپنے ہر اس باسی سے کر رکھی ہے جس کا عقیدہ اکثریت سے مختلف ہے۔ یہ سفید رنگ امن کا، برابری کا، اور اس بات کا اعلان ہے کہ اس مٹی پر ہر انسان کا خون، اس کی عزت اور اس کی عبادت گاہ اتنی ہی محترم ہے جتنی کہ کسی مسلمان کی۔
اور آج 11 اگست ہے۔۔۔ پاکستان میں ‘اقلیتوں کے حقوق کا قومی دن’۔ یہ دن ایک ایسے وقت میں طلوع ہوا ہے جب ہم 14 اگست کی آزادی کے عظیم جشن کی دہلیز پر کھڑے ہیں۔ آزادی کیا ہے؟ آزادی وہ آکسیجن ہے جس کی اصل قدر تب معلوم ہوتی ہے جب گلے میں غلامی اور خوف کا پھندا کسا جا رہا ہو اور سانسیں گھٹ رہی ہوں۔ اگر آج ہم اس نعمت کی گہرائی، اس فلسفے کی وسعت اور قائد اعظم کے دو قومی نظریے کی ابدی سچائی کو سمجھنا چاہتے ہیں، تو ہمیں اپنی نظریں سرحد کے اُس پار، دنیا کی نام نہاد سب سے بڑی جمہوریت کی طرف موڑنی ہوں گی، جہاں آج انسانیت سسک رہی ہے اور اقلیتوں کا وجود ایک ناقابلِ معافی جرم بن چکا ہے۔
آزادی کے اس مہینے میں جب ہم آزاد فضاؤں میں سانس لے رہے ہیں، سرحد پار اقلیتوں پر ریاست کی سرپرستی میں مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ جھارکھنڈ میں محمد امروز کی ہجومی درندگی (Mob Lynching) اور اس کے بوڑھے والدین پر بہیمانہ تشدد وہاں کے جنگل راج کا ثبوت ہے۔ اسی طرح اترپردیش کے ایک ہسپتال میں نماز پڑھتی مسلم خاتون کو جان بوجھ کر ہراساں کرنا اور گائے کے تحفظ کی آڑ میں تین نہتی مسلمان خواتین پر بجرنگ دل کا وحشیانہ تشدد اس بات کا غماز ہے کہ وہاں مذہبی آزادی اور انسانی جان محفوظ نہیں۔
یہ نفرت صرف مسلمانوں تک محدود نہیں؛ راجستھان کے شہر جے پور میں مسیحی برادری کو چرچ فیسٹیول کے دوران گرفتار کر کے ان کی عبادت کا حق بھی چھینا گیا۔ درحقیقت، اقلیتوں کے لیے بھڑکائی گئی یہ آگ اب خود ان کے اپنے گھر کو جلا رہی ہے۔ آسام اور اروناچل پردیش میں انتہا پسندوں (ULFA اور NSCN) کے فوج پر حملے اور منی پور میں میتئی شدت پسندوں کا بھارتی پرچم جلا کر علیحدگی کا جشن منانا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ نفرت کی بنیاد پر کھڑی کی گئی ریاست خود اپنے ہی شعلوں میں بھسم ہو رہی ہے۔
ان خونچکاں حقائق کی روشنی میں، اب دوبارہ اپنے سبز ہلالی پرچم کو دیکھیے۔ وہ سفید رنگ کتنا روشن، کتنا پاکیزہ اور کتنا محفوظ محسوس ہوتا ہے!
آج اگر ہم مساجد میں آزادی سے اذانیں سن رہے ہیں، ہمارے مسیحی بھائی اپنے گرجہ گھروں میں جا رہے ہیں، اور ہمارے ہندو شہری اپنے مندروں میں دیپ جلا رہے ہیں، تو یہ صرف اور صرف اس آزادی کا ثمر ہے جو ہمیں 1947 میں ملی۔ اگر وہ لکیر نہ کھنچتی، تو آج ہماری سانسیں بھی اسی ہجومی تشدد، خوف اور ہراسانی کے سائے تلے گھٹ رہی ہوتیں۔ ہماری مائیں بھی آج محمد امروز کی ماں کی طرح اپنے بچوں کی لاشوں پر بین کر رہی ہوتیں۔
14 اگست کا سورج طلوع ہونے کو ہے۔ یومِ آزادی پر جہاں ہمیں سجدہ شکر ادا کرنا ہے، وہیں آج 11 اگست کے دن ہمیں ایک عہد بھی کرنا ہے۔ ہمیں اپنے پرچم کے اس سفید رنگ پر کبھی کوئی داغ نہیں لگنے دینا۔ ہمیں دنیا کو یہ ثابت کرنا ہے کہ پاکستان قائد اعظم کا وہ خواب ہے جہاں ہر شہری، چاہے اس کا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو، برابر کا حق دار ہے۔
آئیے، اس آزادی کو محسوس کریں، اس سے پیار کریں، اور اپنے اقلیتی بہن بھائیوں کو گلے لگا کر یہ پیغام دیں کہ یہ وطن جتنا ہمارا ہے، اتنا ہی ان کا بھی ہے۔
خدا ہمارے اس پاک وطن کو، اس کے سبز اور سفید رنگ کو تا قیامت سلامت رکھے۔
یومِ اقلیت مبارک۔ پیشگی یومِ آزادی مبارک۔
پاکستان زِندہ باد!
