
نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام کی بحث ایک مرتبہ پھر سیاسی منظرنامے میں شدت اختیار کر رہی ہے۔ اس بحث کے دوران پیپلز پارٹی کے رہنما سعید غنی کا حالیہ بیان بھی توجہ کا مرکز بنا ہے۔ سعید غنی نے نئے صوبوں کے مطالبے کو آئینی طریقہ کار سے جوڑتے ہوئے اسے محض سیاسی نعروں کے ذریعے آگے بڑھانے کی مخالفت کی اور ایسے بیانیوں پر بھی تنقید کی جو، ان کے بقول، لوگوں کو ایک دوسرے کے خلاف نفرت کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔ بظاہر یہ ایک آئینی اور سیاسی مؤقف ہے، لیکن اس بیان نے اس سے کہیں بڑا سوال اٹھا دیا ہے: کیا نئے انتظامی یونٹس کی مخالفت صرف سندھ کی وحدت کا معاملہ ہے یا اس کے پیچھے اختیارات کی مرکزیت برقرار رکھنے کی سیاست بھی موجود ہے؟ سعید غنی کا یہ مؤقف کہ آئینی طریقہ کار کے بغیر صوبے نہیں بن سکتے، اپنی جگہ ایک اہم نکتہ ہے۔ لیکن آئینی طریقہ کار کا حوالہ اس بنیادی سوال کا جواب نہیں دیتا کہ کیا موجودہ انتظامی نظام عوام کو مطلوبہ سہولیات فراہم کر رہا ہے؟ کیا مقامی اداروں کے پاس اتنے اختیارات اور وسائل ہیں کہ وہ شہریوں کے مسائل خود حل کر سکیں؟ اور کیا ترقیاتی وسائل کی تقسیم اس انداز میں ہو رہی ہے کہ دور دراز علاقوں کا شہری بھی خود کو ریاستی نظام کا برابر کا حصہ محسوس کرے؟ یہیں سے پیپلز پارٹی کی سیاست پر ہونے والی تنقید سامنے آتی ہے۔ ناقدین کے مطابق سندھ میں طویل عرصے سے سیاسی اور انتظامی اختیار صوبائی سطح پر مرتکز رہا ہے۔ نئے انتظامی یونٹس، مضبوط مقامی حکومتیں اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی اس مرکزیت کو توڑ سکتی ہے۔ اس صورت میں فیصلوں، ترقیاتی فنڈز اور انتظامی اختیارات پر موجود سیاسی گرفت کم ہو سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ناقدین نئے انتظامی یونٹس کی مخالفت کو محض جغرافیائی مسئلہ نہیں بلکہ اختیارات کی تقسیم کے خلاف مزاحمت کے طور پر بھی دیکھتے ہیں۔ اس تناظر میں سعید غنی کا بیان محض ایک سیاسی ردعمل نہیں رہتا بلکہ وسیع تر حکمرانی کے ماڈل پر بحث کا نقطۂ آغاز بن جاتا ہے۔ اگر ہر انتظامی اصلاح کو صوبے کی تقسیم، نفرت یا علیحدگی پسندی کے خطرے سے جوڑ دیا جائے تو پھر عوامی سطح پر یہ سوال دب جاتا ہے کہ آخر اختیارات کہاں منتقل ہونے چاہئیں۔ انتظامی اصلاح اور علیحدگی پسندی ایک ہی چیز نہیں۔ ایک ریاستی ڈھانچے کو مضبوط کرنے کے لیے بھی انتظامی یونٹس بنائے جا سکتے ہیں، بشرطیکہ ان کا مقصد بہتر حکمرانی، مؤثر سروس ڈیلیوری اور مضبوط احتساب ہو۔ یہی پہلو اس بحث کو کرپشن اور جواب دہی سے بھی جوڑتا ہے۔ جب اختیارات محدود مراکز میں جمع ہوں اور مقامی ادارے مالی و انتظامی طور پر کمزور رہیں تو شہریوں کے لیے یہ جاننا بھی مشکل ہو جاتا ہے کہ ترقیاتی منصوبوں، بجٹ اور عوامی وسائل کے استعمال کا ذمہ دار کون ہے۔ اس کے برعکس اختیارات جتنے عوام کے قریب ہوں گے، منتخب نمائندوں اور انتظامی اداروں سے جواب طلبی اتنی ہی براہِ راست ہو سکتی ہے۔ پیپلز پارٹی کے ناقدین کا الزام ہے کہ موجودہ سیاسی بندوبست ایسے احتسابی نظام کو مضبوط کرنے کے بجائے اختیارات کی مرکزیت کو برقرار رکھتا ہے، کیونکہ حقیقی اختیارات کی تقسیم سیاسی اثر و رسوخ کو محدود کر سکتی ہے۔ اسی تناظر میں نئے انتظامی یونٹس کی مخالفت کو بعض حلقے اس وسیع تر سیاست کا حصہ سمجھتے ہیں جس میں موجودہ سیاسی کنٹرول برقرار رکھنا ترجیح بن جاتا ہے۔ تاہم کرپشن یا کسی مخصوص جماعت کے سیاسی مفاد سے متعلق الزامات کا حتمی فیصلہ شفاف تحقیقات، آڈٹ اور قابلِ تصدیق ریکارڈ سے ہی ہونا چاہیے۔ اصل بحث اس لیے سندھ کو تقسیم کرنے یا نہ کرنے سے آگے بڑھنی چاہیے۔ سوال یہ ہونا چاہیے کہ شہریوں کو بہتر صحت، تعلیم، پانی، سڑکیں، پولیسنگ، بلدیاتی خدمات اور ترقی کے مواقع کیسے دیے جائیں۔ اگر موجودہ نظام یہ سب مؤثر انداز میں فراہم کر رہا ہے تو نئے انتظامی یونٹس کی ضرورت پر سوال اٹھانا فطری ہے۔ لیکن اگر عوام دہائیوں بعد بھی بنیادی سہولیات کے لیے ترس رہے ہوں تو صرف موجودہ انتظامی نقشے کا دفاع کافی نہیں۔ سعید غنی کا بیان اسی لیے ایک وسیع تر بحث کا دروازہ کھولتا ہے۔ *ریاست کو انتظامی تقسیم سے زیادہ اس بات کی فکر ہونی چاہیے کہ اختیار کس کے پاس ہے، وسائل کہاں خرچ ہوتے ہیں اور عوام سے جواب دہی کیسے یقینی بنائی جاتی ہے۔* اگر نئے انتظامی یونٹس اسی مقصد کے لیے بنائے جائیں تو یہ کسی صوبے کو کمزور کرنے کے بجائے ریاستی نظام کو عوام کے قریب اور زیادہ جواب دہ بنانے کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔
