A sleek visual graphic depicting a child silhouette safely enclosed within a protective shield representing child rights and security without text

کیا ہمارے بچے واقعی محفوظ ہیں؟ والدین، اسکول اور ریاست کے لیے لمحہ فکریہ اور بیداری کی اشد ضرورت


بچے کسی بھی معاشرے کی سب سے خوبصورت اور قیمتی حقیقت ہوتے ہیں۔ ان کے چہروں پر مسکراہٹ ہو تو گھر خوشیوں سے بھر جاتا ہے اور ان کے خوابوں میں ہی ایک ملک کا مستقبل چھپا ہوتا ہے۔ لیکن آج ہمارے سامنے ایک ایسا سوال کھڑا ہے جس سے نظریں چرانا شاید اب ممکن نہیں رہا، اور وہ سوال ہے کہ کیا پاکستان کے بچے واقعی محفوظ ہیں؟
یہ سوال صرف حکومت سے نہیں بلکہ ہم سب سے ہے۔ والدین، اساتذہ، اسکول انتظامیہ، میڈیا اور پورے معاشرے سے۔ کیونکہ بچے صرف اپنے گھر کی ذمہ داری نہیں ہوتے، وہ ہمارے معاشرے کا مستقبل ہوتے ہیں۔

پاکستان میں بچوں کو مختلف قسم کے خطرات کا سامنا ہے۔ جسمانی تشدد، جنسی زیادتی، اغوا، کم عمری کی شادی، چائلڈ لیبر اور آن لائن استحصال جیسے مسائل آج بھی موجود ہیں۔ یونیسف کے مطابق پاکستان میں بچے جسمانی، ذہنی اور جنسی تشدد کے ساتھ ساتھ استحصال اور بچوں کی اسمگلنگ جیسے خطرات سے بھی دوچار ہیں۔ ادارے کے مطابق بچوں کے تحفظ کے نظام میں اب بھی اہم خلا موجود ہیں۔
یہ صورتحال اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ ہم صرف کسی افسوسناک واقعے کے بعد چند دن شور نہ مچائیں بلکہ مستقل بنیادوں پر بچوں کے تحفظ کے بارے میں سوچیں۔

بچے خاموش کیوں رہتے ہیں؟
سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ بہت سے بچے اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کے بارے میں بات ہی نہیں کر پاتے۔ کبھی انہیں ڈرایا جاتا ہے، کبھی دھمکایا جاتا ہے اور کبھی انہیں یہ کہہ کر خاموش کر دیا جاتا ہے کہ کسی کو کچھ مت بتانا۔

کئی بچے اس خوف میں بھی مبتلا ہوتے ہیں کہ اگر انہوں نے والدین کو بتایا تو شاید انہیں ہی ڈانٹ پڑے گی۔ یہی وجہ ہے کہ والدین کے لیے ضروری ہے کہ وہ بچوں کے ساتھ ایسا دوستانہ تعلق قائم کریں جہاں بچہ اپنی ہر بات بلا خوف بتا سکے۔
ہمیں بچوں کو صرف یہ نہیں سکھانا کہ اجنبی سے بات نہیں کرنی، بلکہ یہ بھی بتانا ہوگا کہ اگر کوئی شخص انہیں کسی بھی طرح غیر محفوظ محسوس کروائے تو وہ فوراً کسی قابلِ اعتماد بڑے کو بتائیں۔

گھر کے ساتھ اسکول بھی محفوظ ہونا چاہیے
بچے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ اسکول میں گزارتے ہیں۔ اس لیے اسکول صرف تعلیم دینے کی جگہ نہیں بلکہ بچوں کے لیے محفوظ ماحول بھی ہونا چاہیے۔

اساتذہ اور اسکول انتظامیہ کو بچوں کے تحفظ کے حوالے سے باقاعدہ تربیت دی جانی چاہیے۔ اسکولوں میں ایسا شکایتی نظام ہونا چاہیے جہاں بچہ یا اس کے والدین کسی خوف کے بغیر مسئلہ بیان کر سکیں۔
حالیہ برسوں میں بچوں کے تحفظ کے لیے پالیسی اور ادارہ جاتی اقدامات بھی سامنے آئے ہیں۔ پنجاب میں 2025 میں Child Protection Policy کی منظوری ایک اہم قدم تھا، جس کا مقصد بچوں کے تحفظ کی خدمات اور نظام کو بہتر بنانا ہے۔
لیکن پالیسی بنانا پہلا قدم ہے، اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب اس پر مؤثر طریقے سے عمل بھی ہو۔

موبائل فون بھی ذمہ داری مانگتا ہے
آج کے دور میں بچے صرف گھر، گلی اور اسکول تک محدود نہیں رہے۔ موبائل فون اور انٹرنیٹ نے انہیں ایک ایسی دنیا سے جوڑ دیا ہے جہاں معلومات اور تفریح کے ساتھ کئی خطرات بھی موجود ہیں۔
والدین کو چاہیے کہ بچوں کے موبائل استعمال پر نظر رکھیں، لیکن صرف موبائل چھین لینا مسئلے کا حل نہیں۔ بچوں کو یہ سکھانا بھی ضروری ہے کہ وہ اپنی تصویر، ذاتی معلومات، پاس ورڈ یا گھر سے متعلق معلومات کسی غیر متعلقہ شخص کے ساتھ شیئر نہ کریں۔
سب سے بڑھ کر یہ کہ اگر آن لائن کوئی انہیں ڈرائے، بلیک میل کرے یا پریشان کرے تو وہ فوراً والدین کو بتائیں۔

خاموشی نہیں، آواز ضروری ہے
بچوں کے تحفظ کے لیے سب سے پہلے ہمیں اپنی سوچ بدلنا ہوگی۔ کسی بچے کے ساتھ زیادتی ہو تو اسے بدنامی کا خوف نہیں بلکہ انصاف اور تحفظ ملنا چاہیے۔
ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ بچے کو قصوروار ٹھہرانا مسئلے کا حل نہیں۔ بچے کو سننا، اس پر یقین کرنا اور اسے محفوظ ماحول فراہم کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔
میڈیا کا کردار بھی یہاں بہت اہم ہے۔ کسی واقعے کی خبر دیتے وقت بچے کی شناخت ظاہر کرنے کے بجائے اس مسئلے کی اصل وجہ، قانون اور ممکنہ حل پر بات ہونی چاہیے۔
آخر میں سوال پھر وہی ہے: کیا پاکستان کے بچے محفوظ ہیں؟
شاید ابھی اس سوال کا جواب مکمل طور پر ’’ہاں‘‘ نہیں ہے۔ لیکن ہم سب مل کر اس جواب کو ’’ہاں‘‘ میں بدل سکتے ہیں۔
ہمیں ایسے گھر بنانے ہوں گے جہاں بچے خوف کے بغیر بات کر سکیں، ایسے اسکول بنانے ہوں گے جہاں وہ خود کو محفوظ سمجھیں، ایسا معاشرہ بنانا ہوگا جہاں بچے کی عزت اور حفاظت سب سے پہلے ہو۔
کیونکہ اگر ہم اپنے بچوں کو محفوظ مستقبل نہیں دے سکتے تو ترقی، معیشت اور کامیابی کے تمام دعوے ادھورے ہیں۔
پاکستان کا مستقبل صرف نئی سڑکوں اور بلند عمارتوں میں نہیں، بلکہ ان بچوں کی آنکھوں میں ہے جو آج ہم سے اپنے محفوظ کل کی امید لگائے بیٹھے ہیں۔
آئیں، اپنے بچوں کے لیے صرف بہتر مستقبل کا خواب نہ دیکھیں، بلکہ انہیں محفوظ مستقبل دینے کی ذمہ داری بھی اٹھائیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں