A sleek visual graphic depicting stack of school books and fee voucher representing parental financial stress without text

جون، جولائی کی فیسیں اور سمر ٹاسک: کیا والدین پر بڑھتا بوجھ ،اور ذہنی دباؤ کسی کی نظر میں ہے؟


ہر سال مئی کے اختتام کے ساتھ ہی لاکھوں والدین گرمیوں کی چھٹیوں کا نہیں بلکہ ایک نئی مالی آزمائش کا انتظار کر رہے ہوتے ہیں۔ ایک طرف بچوں کے امتحانات ختم ہوتے ہیں اور دوسری طرف پرائیویٹ اسکول جون اور جولائی کی مکمل فیسیں وصول کرنے کے لیے تیار بیٹھے ہوتے ہیں۔ والدین کے ذہن میں ہر سال وہی سوال گردش کرتا ہے کہ جب بچے اسکول نہیں جا رہے، کلاسیں نہیں لگ رہیں اور تعلیمی سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری نہیں ہوتیں تو دو ماہ کی مکمل فیس کس بنیاد پر وصول کی جاتی ہے؟

پرائیویٹ اسکول انتظامیہ کا مؤقف ہوتا ہے کہ ادارے کے اخراجات، اساتذہ کی تنخواہیں اور دیگر انتظامی امور تعطیلات میں بھی جاری رہتے ہیں، اس لیے فیس وصول کرنا ضروری ہے۔ لیکن والدین کا کہنا ہے کہ ان کے گھریلو اخراجات بھی کم نہیں ہوتے۔ مہنگائی، بجلی اور گیس کے بل، روزمرہ ضروریات اور عید جیسے اضافی اخراجات پہلے ہی بجٹ کو متاثر کر چکے ہوتے ہیں۔ ایسے میں دو ماہ کی مکمل فیس ادا کرنا ان کے لیے ایک بڑا امتحان بن جاتا ہے، خصوصاً ان خاندانوں کے لیے جن کے ایک سے زیادہ بچے پرائیویٹ اسکولوں میں زیرِ تعلیم ہوں۔

گزشتہ چند برسوں میں ایک نئی روایت نے بھی جنم لیا ہے، جسے “سمر ٹاسک” کا نام دیا جاتا ہے۔ گرمیوں کی چھٹیوں سے پہلے بچوں کو موٹے موٹے پراجیکٹس، ورک شیٹس، چارٹس، ماڈلز اور مختلف قسم کی اسائنمنٹس دے دی جاتی ہیں۔ بظاہر اس کا مقصد بچوں کو تعلیمی سرگرمیوں سے جوڑے رکھنا ہوتا ہے، لیکن حقیقت میں ان میں سے اکثر کام والدین کے لیے ایک اضافی ذمہ داری بن جاتے ہیں۔

سمر ٹاسک مکمل کرنے کے لیے والدین کو اسٹیشنری، چارٹ پیپر، رنگ، پرنٹنگ، انٹرنیٹ اور دیگر اشیاء پر الگ سے خرچ کرنا پڑتا ہے۔ چھوٹے بچوں کے زیادہ تر پراجیکٹس والدین ہی مکمل کرتے ہیں، کیونکہ بچے انہیں تنہا انجام دینے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ یوں گرمیوں کی چھٹیاں آرام، تفریح اور خاندان کے ساتھ وقت گزارنے کے بجائے اسائنمنٹس مکمل کرنے میں گزر جاتی ہیں۔

اگر جون اور جولائی کی مکمل فیس وصول کی جا رہی ہے تو یہ سوال بھی اپنی جگہ اہم ہے کہ کیا سمر ٹاسک واقعی اتنا ضروری ہے کہ والدین پر مزید مالی اور ذہنی بوجھ ڈالا جائے؟ کیا بہتر نہیں ہوگا کہ بچوں کو ایسی سرگرمیاں دی جائیں جو گھر میں موجود وسائل سے مکمل ہو سکیں اور جن میں والدین پر اضافی اخراجات نہ آئیں؟
اس کے ساتھ ساتھ نئے تعلیمی سال کے آغاز پر کتابیں، یونیفارم اور دیگر ضروری سامان کی خریداری بھی والدین کے بجٹ پر اثر ڈالتی ہے۔ اگرچہ یہ تعلیمی ضروریات ہیں، مگر ان کے ساتھ جون اور جولائی کی مکمل فیسیں مجموعی مالی دباؤ کو کئی گنا بڑھا دیتی ہیں۔

تعلیم یقیناً ایک سرمایہ کاری ہے، لیکن اسے صرف کاروباری نقطۂ نظر سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ تعلیمی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ والدین کی معاشی مشکلات کو بھی سمجھیں۔ اگر گرمیوں کی تعطیلات میں مکمل فیس وصول کرنا ناگزیر ہو تو کم از کم سمر ٹاسک کو سادہ، بامقصد اور کم خرچ بنایا جائے، تاکہ والدین کو اضافی اخراجات اور ذہنی دباؤ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
حکومت اور متعلقہ تعلیمی اداروں کو بھی چاہیے کہ وہ پرائیویٹ اسکولوں کی فیس پالیسی اور سمر ٹاسک کے طریقہ کار کا جائزہ لیں۔ ایک ایسی متوازن پالیسی وقت کی ضرورت ہے جس میں تعلیمی اداروں کے انتظامی اخراجات بھی پورے ہوں اور والدین کو بھی غیر ضروری مالی بوجھ سے بچایا جا سکے۔
تعلیم کا مقصد بچوں کا مستقبل روشن کرنا ہے، نہ کہ والدین کو معاشی مشکلات میں مبتلا کرنا۔ جب تک والدین کی آواز کو سنجیدگی سے نہیں سنا جائے گا، جون اور جولائی کی فیسیں اور سمر ٹاسک ہر سال ہزاروں خاندانوں کے لیے ایک مستقل پریشانی بنے رہیں گے۔

اپنا تبصرہ لکھیں