A sleek visual graphic depicting a parliamentary press podium with speech bubbles representing inter-party dialogue and political engagement

بلاول بھٹو کا اہم بیان: پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی میں اعتماد کا فقدان ضرور ہے لیکن بات چیت ہونی چاہیے

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی کے مابین اعتماد کا فقدان ضرور موجود ہے، تاہم قومی چیلنجز کے حل کے لیے تمام سیاسی قوتوں کے درمیان باقاعدہ بات چیت اور انگیجمنٹ ناگزیر ہے۔ لندن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ ملک کے سیاسی نظام کی خرابیوں پر پارلیمان کے اندر کھل کر بحث ہونی چاہیے تاکہ ملکی استحکام کا متفقہ راستہ نکالا جا سکے۔ انہوں نے پی ٹی آئی کے پارلیمانی کمیٹیوں اور انتخابات کے بائیکاٹ کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ طرزِ عمل پارلیمنٹ، اپوزیشن اور خود تحریکِ انصاف کے مفاد میں نہیں ہے، اس لیے پی ٹی آئی کو ایوان میں آ کر باقاعدہ فعال اپوزیشن کا کردار ادا کرنا چاہیے۔

خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ کے دورۂ سندھ اور لاڑکانہ سے متعلق سوال کے جواب میں بلاول بھٹو نے کہا کہ جمہوری نظام میں ہر سیاسی رہنما کو ملک بھر میں سرگرمیوں کا آئینی حق حاصل ہے اور سندھ نے ہمیشہ کی طرح اپنی روایتی مہمان نوازی کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر وزیراعلیٰ کے پی کو اپنے اندرونی مسائل یا مشکلات کا سامنا رہا ہے تو اس کا الزام سندھ حکومت یا پیپلز پارٹی پر لگانا درست نہیں۔ چیئرمین پی پی نے جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے ساتھ تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ آزاد کشمیر کے انتخابات میں ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ جے یو آئی اور پیپلز پارٹی کے مابین سیاسی اتحاد قائم ہوا ہے، جبکہ پارلیمان کے اندر بھی دونوں جماعتوں کا اشتراک مثبت انداز میں آگے بڑھ رہا ہے۔

نئے صوبوں کے قیام کے مباحثے پر دوٹوک مؤقف اپناتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ ایسے حساس قومی معاملات کو چیمبرز یا بزنس فورمز کے بجائے براہِ راست پارلیمان میں زیرِ بحث لایا جانا چاہیے اور وہ اس پر کسی بھی وفاقی وزیر سے کھلی بحث کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے 2024 کے عام انتخابات اور آزاد کشمیر کے انتخابی عمل پر تحفظات کا اعادہ کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ پارلیمنٹ میں فوری طور پر ایک بااختیار اور جامع انتخابی اصلاحات کمیٹی تشکیل دی جائے، جس میں تمام سیاسی جماعتوں کی متفقہ نمائندگی ہو تاکہ مستقبل میں انتخابی نظام پر اٹھنے والے اعتراضات کا مستقل تدارک کیا جا سکے۔

اپنا تبصرہ لکھیں