عوام کی رائے، جمہوری اتفاقِ رائے اور بلاول بھٹو کا واضح مؤقف

پاکستان میں نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے قیام کی بحث جب بھی سامنے آتی ہے، اس کے ساتھ سیاسی حساسیت، علاقائی خدشات اور مختلف نوعیت کے تحفظات بھی زیرِ بحث آ جاتے ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اس معاملے پر جو مؤقف اختیار کیا ہے، اس کا بنیادی نکتہ واضح ہے: پاکستان کے انتظامی مستقبل کے بارے میں کوئی بھی فیصلہ عوام کی مرضی اور باہمی اتفاقِ رائے کے بغیر نہیں ہونا چاہیے۔ بلاول بھٹو زرداری کا یہ مؤقف اس اعتبار سے اہم ہے کہ نئے صوبوں کا معاملہ محض انتظامی نقشے میں تبدیلی کا سوال نہیں۔ اس کے ساتھ تاریخ، شناخت، نمائندگی، وسائل کی تقسیم اور عوامی جذبات جیسے کئی پہلو وابستہ ہیں۔ ایسے حساس معاملے میں کسی ایک سیاسی جماعت یا محدود سیاسی حلقے کی خواہش کو حتمی فیصلہ سمجھنے کے بجائے عوامی رائے کو بنیادی اہمیت دینا جمہوری عمل کی روح سے مطابقت رکھتا ہے۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے واضح کیا ہے کہ پارٹی ہر صوبے کی جغرافیائی اور سیاسی حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنا مؤقف پیش کرتی ہے اور آئندہ بھی ایسا فیصلہ عوامی امنگوں کے مطابق ہی ہونا چاہیے۔ ان کے مؤقف کا سب سے نمایاں پہلو یہی ہے کہ انتظامی تبدیلی کسی پر مسلط نہیں کی جا سکتی۔ اگر کسی علاقے کے عوام کسی انتظامی یونٹ کے قیام کے حق میں ہوں تو ان کی آواز سنی جانی چاہیے، اور اگر کسی تجویز پر شدید تحفظات موجود ہوں تو ان تحفظات کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہی جمہوری سیاست کا بنیادی اصول ہے کہ عوام صرف انتخابات کے دن اپنی رائے کا اظہار نہیں کرتے بلکہ ریاستی اور انتظامی فیصلوں میں بھی ان کی مرضی کو اہمیت حاصل ہوتی ہے۔ نئے صوبوں کا معاملہ بھی اسی اصول کے تحت دیکھا جانا چاہیے۔ سیاسی قوتوں کے درمیان اختلاف اپنی جگہ، لیکن حتمی سمت عوامی اعتماد، آئینی تقاضوں اور باہمی رضامندی سے متعین ہونی چاہیے۔ بلاول بھٹو کا مؤقف اس لحاظ سے بھی توجہ طلب ہے کہ انہوں نے معاملے کو محض سیاسی مفاد کے بجائے اتفاقِ رائے کے زاویے سے پیش کیا ہے۔ پاکستان جیسے متنوع معاشرے میں انتظامی اصلاحات اسی وقت دیرپا ثابت ہو سکتی ہیں جب ان کے پیچھے وسیع سیاسی اور عوامی حمایت موجود ہو۔ طاقت کے زور پر کیا گیا فیصلہ وقتی طور پر نافذ تو ہو سکتا ہے، لیکن طویل مدت میں اس کے نتیجے میں مزید سیاسی کشیدگی پیدا ہونے کا خطرہ رہتا ہے۔ اس بحث کا ایک مثبت پہلو یہ بھی ہے کہ نئے صوبوں کے معاملے کو جذباتی نعروں کے بجائے عوامی مشاورت سے جوڑا جائے۔ اگر کسی خطے میں انتظامی مسائل موجود ہیں، عوام بہتر حکمرانی چاہتے ہیں یا انہیں لگتا ہے کہ موجودہ نظام ان کی ضروریات پوری نہیں کر رہا، تو ان مطالبات کو سننا ضروری ہے۔ اسی طرح اگر کسی علاقے کے عوام موجودہ انتظامی وحدت کو برقرار رکھنے کے حق میں ہیں تو ان کی رائے بھی اتنی ہی اہم ہے۔ جمہوریت میں کسی ایک فریق کی خواہش کو عوامی اکثریت پر فوقیت نہیں دی جا سکتی۔ بلاول بھٹو زرداری کی سیاست کا یہ پہلو بھی نمایاں ہوتا ہے کہ وہ حساس قومی معاملات پر براہِ راست عوامی اعتماد کو سیاسی فیصلوں کی بنیاد بنانے کی بات کرتے ہیں۔ ان کا مؤقف یہ تاثر دیتا ہے کہ انتظامی تبدیلی کا فیصلہ سیاسی طاقت کے ذریعے نہیں بلکہ عوامی رضامندی کے ذریعے ہونا چاہیے۔ یہی طرزِ سیاست اختلاف کو تصادم میں تبدیل ہونے سے روکنے اور مختلف علاقوں کے درمیان اعتماد برقرار رکھنے میں مدد دے سکتا ہے۔ نئے صوبوں کی بحث کو کسی ایک جماعت کی فتح یا شکست کے طور پر دیکھنے کے بجائے اسے پاکستان کے بہتر انتظامی مستقبل کے سوال کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اگر کبھی نئے انتظامی یونٹس کے قیام کی ضرورت محسوس ہو تو اس کا فیصلہ آئینی طریقہ کار، عوامی مشاورت اور وسیع اتفاقِ رائے کے ذریعے ہونا چاہیے۔ آخرکار کسی بھی ریاست میں پائیدار فیصلہ وہی ہوتا ہے جسے عوام اپنا فیصلہ سمجھیں۔ بلاول بھٹو زرداری کا یہ مؤقف اسی اصول کو سامنے لاتا ہے کہ عوام کی مرضی سے بڑا کوئی سیاسی مینڈیٹ نہیں، اور قومی معاملات میں اتفاقِ رائے ہی پائیدار راستہ ہے۔ یہی وہ جمہوری سوچ ہے جو حساس معاملات کو تقسیم کے بجائے مکالمے، تصادم کے بجائے رضامندی اور سیاسی کشیدگی کے بجائے قومی اتفاقِ رائے کی طرف لے جا سکتی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں