مظفرآباد (ویب ڈیسک) — 15 جولائی 2026
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ افواجِ پاکستان ہماری “ریڈ لائن” ہیں اور پاک فوج کے خلاف کشمیر کی دھرتی سے اٹھنے والی کسی بھی منفی یا تضحیک آمیز آواز کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ آزاد جموں و کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں انتخابی مہم کے سلسلے میں منعقدہ پارٹی کے ایک اہم مشاورتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے ملکی سلامتی کے اداروں کے خلاف بیانیے کی سخت مذمت کی اور شرپسند عناصر کو قانون کے دائرے میں رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔
گزشتہ روز مظفرآباد پہنچنے پر آزاد کشمیر کے وزیرِ اعظم فیصل راٹھور نے کابینہ کے اراکین کے ہمراہ پی پی پی چیئرمین کا شاندار استقبال کیا تھا، جس کے بعد انتخابی سرگرمیاں تیز کر دی گئی ہیں۔ پارٹی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی ہمیشہ سے عوام کو ان کے جائز جمہوری و معاشی حقوق دینے والی جماعت رہی ہے، جبکہ دیگر سیاسی قوتیں عوام سے ان کے حقوق چھیننے پر یقین رکھتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج کرنا بلاشبہ ہر شہری کا بنیادی آئینی حق ہے، لیکن احتجاج کے نام پر پرتشدد کارروائیوں، جلاؤ گھیراؤ اور ریاستی املاک کو نقصان پہنچانے کی کسی بھی صورت اجازت نہیں دی جا سکتی۔
سابق وفاقی وزیرِ خارجہ نے ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے خبردار کیا کہ کراچی کے عوام آج بھی نہیں بھولے کہ نوے کی دہائی میں الطاف حسین کی پرتشدد سیاست نے کس طرح روشنیوں کے شہر کا امن و امان، معاشی ترقی اور عام شہریوں کا جینا حرام کر دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ کسی بھی قیمت پر اس طرز کی نفرت انگیز اور جلاؤ گھیراؤ والی سیاست کو پرامن آزاد جموں و کشمیر میں فروغ پاتے نہیں دیکھ سکتے۔ انہوں نے کشمیری عوام پر زور دیا کہ وہ ترقی اور جمہوریت کا ساتھ دیں اور دشمن کے ناپاک ایجنڈے کو کامیاب نہ ہونے دیں، جبکہ پاک فوج کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے انہوں نے دفاعِ وطن کے لیے ہر قربانی دینے کا عزم دہرایا۔
