آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) اور وزارتِ خزانہ کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کے یومیہ قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار کے تحت 30 جولائی 2026 کے لیے نئے نرخوں کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔ جاری کردہ تفصیلات کے مطابق ہائی اسپیڈ ڈیزل کے نرخوں میں ایک بار پھر اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس کا راست اثر ٹرانسپورٹیشن اور عوامی نقل و حمل کے اخراجات پر پڑے گا، جبکہ دوسری جانب پیٹرولیم صارفین کو محض چند پیسے فی لیٹر کی معمولی ریلیف فراہم کی گئی ہے۔
وزارتِ خزانہ کے نوٹیفکیشن کے مطابق 30 جولائی کے لیے ہائی اسپیڈ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں 2 روپے 24 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد ڈیزل کی قیمت 388 روپے 38 پیسے سے بڑھ کر 390 روپے 62 پیسے کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ دوسری جانب پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 75 پیسے کی معمولی کمی کی گئی ہے، جس کے بعد پیٹرول کے نئے ایکس ڈپو نرخ 335 روپے 81 پیسے سے کم ہو کر 335 روپے 6 پیسے فی لیٹر مقرر ہو گئے ہیں۔ ان تمام نئی قیمتوں کا باقاعدہ اطلاق 29 جولائی کی رات 12 بجے سے آئندہ 24 گھنٹوں کے لیے نافذ العمل ہوگا۔
ڈیزل کے نرخوں میں مسلسل اضافے کی وجہ سے تجارتی سامان کی نقل و حمل، زرعی شعبے اور بس سروسز کے کرایوں میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کیونکہ مال برداری کی بیشتر گاڑیاں ڈیزل پر ہی منحصر ہیں۔ معاشی ماہرین اور شہریوں کا ماننا ہے کہ پیٹرول کی قیمت میں محض 75 پیسے کی کمی عوامی ریلیف کے نام پر نہ ہونے کے برابر ہے، جبکہ ڈیزل کا 390 روپے سے تجاوُز کر جانا روزمرہ کی ضروری اشیاء کی ترسیلی لاگت اور مہنگائی کو بڑھانے کا بڑا سبب بنے گا۔
