کراچی (ویب ڈیسک) 22 جون 2026
پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور صوبائی وزیر ثقافت و سیاحت سید ذوالفقار علی شاہ نے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن کے حالیہ الزامات پر کڑی تنقید کرتے ہوئے اپنے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ کراچی پر کسی قسم کا کوئی قبضہ نہیں کیا گیا، بلکہ شہر کے باشعور عوام نے بیلٹ باکس کے ذریعے جماعت اسلامی کی نفرت انگیز اور منفی سیاست کو مستقل طور پر مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے پریس کانفرنس اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جو جماعت اپنی پوری تاریخ میں کبھی اکیلے بلدیاتی الیکشن جیتنے کی صلاحیت نہیں رکھ سکی، آج وہ ملک کی سب سے بڑی جمہوری جماعت کو جمہوریت کے اسباق سکھانے کی کوشش کر رہی ہے جو کہ انتہائی مضحکہ خیز ہے۔
صوبائی وزیر سید ذوالفقار علی شاہ نے جماعت اسلامی کی قیادت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ جمہوریت پاکستان پیپلز پارٹی کے خون اور نظریات میں شامل ہے، اس لیے آمریت کی نرسری اور گود میں پلنے والے عناصر ہمیں کسی قسم کا طعنہ دینے سے باز رہیں۔ انہوں نے چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ سندھ کی تعمیر و ترقی اور کراچی کے بجٹ پر بلا جواز تنقید کرنے سے پہلے جماعت اسلامی کی قیادت کراچی میں اپنے ماضی کے ناکام بلدیاتی دور کا حساب دے جس نے شہر کو پسماندگی کی طرف دھکیلا۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ غریبوں کو حقوق دیے ہیں، ہاریوں کو زمینوں کا مالک بنایا اور بلاول بھٹو زرداری نے سندھ کے محنت کشوں کے لیے تاریخی ‘بے نظیر مزدور کارڈ’ متعارف کرایا، جبکہ جماعت اسلامی نے زبانی جمع خرچ کے سوا عوام کو کچھ نہیں دیا۔
ذوالفقار علی شاہ نے حافظ نعیم الرحمن پر براہِ راست تنقید کرتے ہوئے یہ اہم سوال اٹھایا کہ کیا امیر جماعت اسلامی صرف فوٹو سیشن کرانے، سستی سوشل میڈیا شہرت حاصل کرنے اور روزانہ پریس کانفرنسیں کرنے کے علاوہ عملی طور پر عوام کے لیے کوئی تعمیری کام کرنا جانتے بھی ہیں یا نہیں؟ انہوں نے الزام عائد کیا کہ اسکولوں، کالجوں اور معصوم بچوں کے روشن مستقبل پر سیاست چمکانا اور تعلیمی اداروں کا ماحول خراب کرنا جماعت اسلامی کا پرانا وتیرہ رہا ہے جسے اب کراچی اور سندھ کے عوام اچھی طرح پہچان چکے ہیں اور اسی لیے انہوں نے بلدیاتی اور عام انتخابات میں ان کے جھوٹے دعوؤں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے عوامی مینڈیٹ پر مہر لگائی۔
صوبائی وزیر ثقافت نے اپوزیشن کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ پہاڑوں جتنے بجٹ اور سندھ حکومت کے فنڈز پر بے جا واویلا مچانے والے حسد کا شکار ہیں، انہیں چاہیے کہ وہ سیاست چمکانے کے بجائے صوبائی اسکولوں اور کالجوں کا دورہ کریں جہاں پیپلز پارٹی کی تعلیمی اصلاحات اور انقلابی اقدامات کو دیکھ کر ان کی آنکھیں کھل جائیں گی۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ حافظ نعیم الرحمن کو اب سندھ کے غیور عوام کی جھوٹی فکر چھوڑ کر صرف اپنی ڈوبتی ہوئی سیاست کو بچانے کی فکر کرنی چاہیے کیونکہ پیپلز پارٹی نعروں پر نہیں بلکہ بلا امتیاز عوامی خدمت پر یقین رکھتی ہے اور شہرِ قائد کی ترقی کا سفر بغیر کسی رکاوٹ کے اسی طرح جاری رہے گا۔
