Diagrammatic illustration of underwater ping locator searching for an aircraft black box flight recorder in deep ocean

سمندر برد ہونے والے طیارے فلائٹ 1732 کے بلیک باکس سگنلز 6 اگست کو خاموش ہونے کا خدشہ

کراچی کے قریب سمندر میں حادثے کا شکار ہونے والے طیارے فلائٹ 1732 کے بلیک باکس کے سگنلز 6 اگست کو مکمل طور پر خاموش ہونے کا شدید خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ ماہرِ ہوابازی عمران اسلم خان کے مطابق طیارے کے انڈر واٹر لوکیٹر بیکنز کی بیٹریاں 30 روز کی محدود مدت کے لیے فعال رہتی ہیں، جس کے بعد ان کے الٹراسونک سگنلز بند ہو جائیں گے۔ بیکن سگنلز کی خاموشی کے بعد گہرے سمندر میں بلیک باکس اور طیارے کا بنیادی ملبہ تلاش کرنا ایک انتہائی پیچیدہ، دشوار اور بوجھل مرحلے میں داخل ہو جائے گا، اسی لیے سرچ آپریشن کا رخ فوری طور پر گہرے سمندری علاقوں کی طرف موڑنے کی اشد ضرورت ہے۔

ماہرِ ہوابازی نے نشاندہی کی ہے کہ سطحِ سمندر پر جاری موجودہ سرچ آپریشن اب زیادہ موثر ثابت نہیں ہو رہا کیونکہ ہلکا ملبہ سمندری لہروں اور بہاؤ کے باعث لاکھوں مربع کلومیٹر کے وسیع رقبے میں پھیل چکا ہے۔ اس کے برعکس طیارے کا اصل اور بھاری ملبہ آخری ریڈار لوکیشن کے قریب، اورماڑہ کے ساحل کے پاس تقریباً 3 ہزار میٹر کی گہرائی میں موجود ہونے کا قوی امکان ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ وقت ضائع کیے بغیر سونار سرچ، ٹوڈ پنگر لوکیٹرز اور خودکار روبوٹک زیرِ آب گاڑیوں (AUVs) کا استعمال کیا جائے تاکہ 6 اگست کی مہم ختم ہونے سے قبل بلیک باکس کا پتہ لگایا جا سکے۔

اس وقت پاکستانی سرچ ٹیموں کی جانب سے حادثے کے ابتدائی 12 گھنٹوں کے اندر ملبہ تلاش کرنے کی مساعی کو قابلِ تحسین قرار دیا جا رہا ہے، تاہم 30 دن کی قانونی اور تکنیکی حد ختم ہونے کے قریب آنے پر ماہرین کا کہنا ہے کہ فوری تکنیکی تبدیلی ناگزیر ہو چکی ہے۔ اگر بلیک باکس کے سگنلز بند ہونے سے پہلے اسے نہ نکالا جا سکا تو حادثے کی اصل وجوہات، کاک پٹ کی صوتی ریکارڈنگ اور تکنیکی خرابی کے شواہد حاصل کرنا تقریباً ناممکن ہو جائے گا، جس سے تحقیقاتی عمل شدید متاثر ہو سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں