اسلام آباد (ویب ڈیسک) — 15 جولائی 2026
وفاقی محتسب برائے انسدادِ ہراسیت (فوسپاہ) نے دفتری ماحول میں خواتین کے حقوق اور عزتِ نفس کے تحفظ کے لیے ایک تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے، اولاد نہ ہونے پر اپنی ہی ایک خاتون کولیگ کو بار بار خواجہ سرا سے تشبیہ دینے والے سرکاری افسر پر 5 لاکھ روپے کا بھاری جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ ترجمان فوسپاہ کے مطابق، محکمانہ رقابت اور حسد کی بنیاد پر اعلیٰ سرکاری عہدے پر فائز اس افسر نے شعوری طور پر صنفی امتیاز کو نشانہ بنایا اور خاتون کے خلاف سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ پر باقاعدہ ایک توہین آمیز مہم چلائی، جس کے ناقابلِ تردید دستاویزی ثبوت سامنے آنے پر یہ سخت سزا سنائی گئی ہے۔
کیس کی تفصیلات کے مطابق، ملزم نے شکایت گزار خاتون کے ہاں اولاد نہ ہونے کے انتہائی ذاتی امر کو بنیاد بنا کر انہیں شدید ذہنی اذیت کا نشانہ بنایا اور آن لائن فورمز پر تضحیک آمیز پیغامات شائع کیے۔ وفاقی محتسب نے اپنے تحریری فیصلے میں واضح کیا ہے کہ کسی بھی خاتون کے خلاف اس کی صنف یا ذاتی زندگی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا قانوناً جرم ہے۔ عدالت نے اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا کہ ملزم نے نہ صرف اپنی ساتھی ملازمہ کی تذلیل کی بلکہ خواجہ سرا برادری سے منسوب اصطلاحات کو بطور گالی یا طنز استعمال کر کے معاشرے کے ایک اور مظلوم و کمزور طبقے کے خلاف پائے جانے والے امتیازی رویے کی عکاسی بھی کی۔
فوسپاہ کے فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ خواجہ سرا شناخت کو کسی کی توہین کے لیے استعمال کرنا محض ناشائستہ زبان کے زمرے میں نہیں آتا، بلکہ یہ معاشرے میں پہلے سے موجود نقصان دہ دقیانوسی تصورات کو مزید ہوا دیتا ہے۔ وفاقی محتسب نے سخت لہجہ اپناتے ہوئے ریمارکس دیے کہ کسی بھی پیشہ ورانہ اور دفتری ماحول میں اس قسم کے غیر اخلاقی، متعصبانہ اور نازیبا رویوں کی قطعی کوئی گنجائش نہیں ہو سکتی۔ اس فیصلے کے بعد ورک پلیس ہراسمنٹ کے خلاف کام کرنے والی سماجی تنظیموں نے فوسپاہ کے اقدام کو سراہا ہے اور اسے دفاتر میں خواتین کو محفوظ ماحول فراہم کرنے کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔
