
آج جب نئی دہلی کے آسمان پر صبح کا سورج طلوع ہوا، تو اس کی پہلی کرن نے صرف سڑکوں کو ہی روشن نہیں کیا بلکہ شاہی ایوانوں کی اس سیاہ رات کو بھی چیر کر رکھ دیا جس پر پچھلے بارہ سالوں سے غرور اور تکبر کا پہرا تھا۔ آج دہلی کی فضاؤں میں ایک الگ ہی خوشبو ہے—یہ جیتے ہوئے خوابوں، سسکیوں سے جنم لینے والے عزم، اور اس نئی صبح کی خوشبو ہے جو ہندوستانی نوجوانوں (Gen-Z) نے اپنے لہو اور غیرت سے لکھی ہے۔ وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ محض ایک وزارتی رخصتی نہیں ہے، یہ اس طلسم کا ٹوٹنا ہے جو یہ سمجھتا تھا کہ طاقت، لاٹھیوں، آنسو گیس اور بندوقوں کے زور پر سچ کا گلا گھونٹا جا سکتا ہے۔
ذرا اس منظر کو کہانی کی طرح محسوس کیجیے: کل تک جن سڑکوں پر پولیس کے بوٹوں تلے قومی پرچم کو روندا جا رہا تھا، جہاں نہتے طلبا پر پیلٹ گنز اور گولیاں برسائی جا رہی تھیں، آج اسی مٹی سے ایک ایسا انقلاب ابھرا ہے جس نے دہلی کے تخت کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ‘کاکروچ جنتا پارٹی’ (CJP) کے بانی ابھیجیت دیپکے نے جب یہ للکارا کہ “یہ تو محض ایک استعفیٰ ہے، ‘کاکروچ’ سے پنگا مت لو؛ اگر ہم نے وزیر کو گرادیا ہے تو یہ پولیس اور ادارے ہمارے لیے کچھ بھی نہیں ہیں!” تو فاشزم کے ایوانوں میں سکتہ طاری ہو گیا۔
اور پھر اس فتح کا جشن دیکھیے! جو بی جے پی کے حواری چند دن پہلے طلبہ کی حمایت کرنے پر اداکارہ سوناکشی سنہا کو سوشل میڈیا پر دن رات ٹرول کر رہے تھے، وہی سوناکشی آج دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ پر رقص کرتی ہوئی اپنی خوشی چھپا نہیں پا رہیں۔ یہ تبدیلی بتا رہی ہے کہ ہوا کا رخ بدل چکا ہے۔ یوگیندر یادو نے بالکل سچ کہا کہ حکومت جانتی تھی کہ یہ طوفان صرف دھرمیندر پردھان پر نہیں رکے گا، یہ سیدھا نریندر مودی کے تخت تک جائے گا۔ کانگریس کے دگ وجے سنگھ اور اے آئی ایم آئی ایم کے رہنما اسد الدین اویسی کی زبانوں پر بھی اب ایک ہی صدا ہے: بلڈوزر اور بندوق کی یہ جابرانہ سیاست اب اس دھرتی پر نہیں چلے گی!
اور وہ ’گودی میڈیا‘ جو پچھلے ایک ماہ سے اس تاریخی تحریک پر سانپ بن کر بیٹھا تھا، جو اسٹوڈیوز کے اے سی کمروں میں بیٹھ کر لاکھوں طلبا کو ’اینٹی نیشنل‘ اور ’اربن نکسل‘ کے فتوے دے رہا تھا، آج اس کا انجام دنیا نے دیکھ لیا۔ جب زمینی رپورٹرز باہر نکلے تو ہندوستانی نوجوانوں نے ان کے ہاتھ میں پچاس پچاس روپے کے نوٹ تھماتے ہوئے وہ طمانچہ رسید کیا جو تاریخ کبھی نہیں بھولے گی: “مودی نے ہماری مخالفت کے کتنے پیسے دیے ہیں؟ یہ لو پچاس روپے اور ہماری دلالی کر لو!” وزارتِ خارجہ (MEA) کو بھی آخرکار سرعام یہ اعتراف کرنا پڑا کہ اس احتجاج کے پیچھے کوئی بیرونی فنڈنگ نہیں ہے—یہ خالصتاً ہندوستانی بچوں کے اپنے مستقبل کی جنگ ہے۔
جنتر منتر کا یہ احتجاج جب مرکزی وزراء جے پی نڈا اور جتیندر سنگھ کو سی جے پی کے ترجمانوں ( داس اور آستوش رنکا) کے سامنے جھکانے پر مجبور کر گیا، اور یہ تصفیہ طے پایا کہ 20 جولائی اور اس کے بعد کے تمام جھوٹے مقدمات واپس ہوں گے، تو یہ ثابت ہو گیا کہ سڑکوں کا اصل راج کس کا ہے۔
مگر ہمارا پیغام بالکل واضح اور دوٹوک ہے: یہ مت سوچو کہ کھیل ختم ہو چکا ہے۔
ہم وزیر داخلہ Amit Shah کو براہِ راست اس بربریت اور طلبہ پر گولیاں چلانے کا ذمہ دار مانتے ہیں۔ طلبہ کی تحریک اب تھمنے والی نہیں ہے؛ وزیر اعظم کا معافی مانگنا اور اس خونریز نظام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا اب اس نسلِ نو کا ہدف بن چکا ہے۔
جتنی چاہیں سنائپر رائفلیں تان لیں، جتنے چاہیں جبر کے نئے ڈرامے رچا لیں اب اس ابھرتی ہوئی ہندوستانی نوجوان نسل کو کوئی زنجیر نہیں باندھ سکتی۔ دہلی کے اس نئے سورج نے یہ بتا دیا ہے کہ فاشسٹ سرکس کے دن اب لد چکے ہیں۔ اٹھو اور دیکھو، انقلاب آ چکا ہے!
