قانون کی حکمرانی یا مساوی انصاف کا امتحان؟

عمران خان کے معاملہ میں صحت کا معاملہ محض ایک سیاسی شخصیت کی صحت کا معاملہ نہیں رہا۔ اس نے پاکستان کے نظام کے تعلق سے ایک بڑا سوال اٹھا دیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان میں ہر شخص کی زندگی اور صحت کے لیے قانون اور ریاست یکساں سنجیدگی سے لے لیتا ہے؟

اس سوال کا جواب عمران خان کے علاج میں رکاوٹ نہیں ہے، بلکہ یہ ہے کہ کیا ہر شخص کو ایک ہی قانونی تحفظ میسر ہے؟ عمران خان کو بہترین علاج میسر ہونا چاہیے۔ اس میں کوئی اختلاف نہیں ہونا چاہیے۔ لیکن ایک سوال اٹھتا ہے کہ کیا ایک غیر معمولی شخص، جو ریاست کے قبضہ میں ہے، اس کو بھی وہی فوری علاج مل سکتا ہے؟ سپریم کورٹ کے حکم میں عمران خان کے معائنے کے لیے ایک خاص انتظام کیا گیا۔ اس میں ایک میڈیکل بورڈ بنا گیا جس میں مختلف ڈاکٹر شامل تھے۔ عمران خان کے ڈاکٹر اور ان کی بہن نے بھی حصہ لیا۔ اہلِ خانہ سے ملاقات کا بھی تفصیلی انتظام کیا گیا۔

عمران خان کو علاج سے محروم نہیں رکھا گیا۔ انہیں ایک اہم ہسپتال میں منتقل کیا گیا۔ وہاں مختلف ڈاکٹر نے معائنہ کیا ہے۔ ان کی بہن بھی موجود تھیں۔ اور ہسپتال کے ڈاکٹروں نے رپورٹ مرتب کی۔ اس رپورٹ کا اندراج نہیں کیا گیا۔حکومت کا ماننا ہے کہ یہ معائنہ ضروری تھا۔ اس کے لیے مختلف ڈاکٹروں کی شمولیت کی گئی۔ اس تفصیل کو دیکھنے کے بعد اصل سوال واضح ہوتا ہے۔
آئین میں کہا گیا ہے کہ ہر شخص قانون کی نظر میں برابر ہے۔ یہ مطلب یہ نہیں ہے کہ ہر شخص کے ساتھ ایک جیسا معاملہ کیا جائے۔ لیکن یہ ضرور ہے کہ مختلف حالات میں ہر شخص کو انصاف ملے. اسی لیے جیل میں موجود لوگوں کا معاملہ بھی دیکھنا ضروری ہے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ جیلوں میں کتنے افراد موجود ہیں۔ اس کے علاوہ بھی یہ بات واضح ہوتی ہے کہ کتنے لوگ کسی مقدمے کے تحت ہیں۔ جیلوں میں اتنے لوگ ہیں کہ وہاں کی گنجائش سے زیادہ ہیں۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ جیل میں کیسے سہولیات فراہم کی جا سکتی ہیں۔

اسی طرح سوال اٹھتا ہے کہ اگر کوئی شخص بیمار ہو تو اس کے لیے کیا انتظامات ہیں؟ اگر اس شخص کو ہسپتال جانا ہو تو کیا اس کو فوری طور پر ہسپتال میں لے جایا جاتا ہے؟ اس کے اہلِ خانہ کی ہمیشہ ملاقات ہوتی ہے؟ یہ سوال کسی ایک شخص کے بارے میں نہیں ہے۔ یہ سب کے لیے ہے۔ قانون کے مطابق ریاست کے ذمہ ہے کہ زیرِ حراست افراد کی صحت کا خیال رکھا جائے۔ اگر کوئی شخص بیمار ہو تو اس کو علاج کی ضرورت ہوتی ہے۔

اسی لیے یہ سوال اٹھانا ضروری ہے کہ کیوں کسی شخص کو فوری علاج ملے اور دوسرے کو نہیں؟عمران خان کو علاج کی کوئی خاص رعایت نہیں ہے۔ یہ ایک بنیادی انسانی حق ہے۔ لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ اسی قسم کی سنجیدگی کسی اور شخص کو کیوں نہیں ملتی؟

پاکستان کو اس معاملہ کو سیاسی جماعتوں کے درمیان چھوڑنے کی بجائے، اسے ایک مسئلہ کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ اگر ریاست اور عدلیہ ایسے ادارے بنائیں جہاں ہر شخص کی صحت اور انسانی وقار کا خیال رکھا جائے، تو ایک بہتر نظام بن سکتا ہے۔ اگر ایک سابق وزیراعظم کو فوری علاج مل سکتا ہے تو اسی طرح دوسرے لوگوں کو بھی ملنا چاہیے۔

ریاست کی قدر اس میں ہے کہ ہر شخص کو یقین ہو کہ وہ چاہے کسی بھی حالت میں ہو، اس کی زندگی اور صحت کی حفاظت کی جائے۔ جب یہ ہو گا تو آرٹیکل 25 صرف ایک جملہ نہیں رہے گا۔ یہ ایک حقیقت بن جائے گا۔ کیونکہ انصاف کا امتحان یہ نہیں ہے کہ ایک طاقتور شخص کو کیا ملا۔ یہ امتحان یہ ہے کہ ایک غیر معمولی شخص کو کیا ملا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں