
وشو گرو بننے کے دعوے سے کچرے کی گاڑی تک پہنچنے والی یہ تصویر بھارت کے اس تضاد کو بے نقاب کرتی ہے جسے نریندر مودی کی حکومت کی بلند بانگ عالمی تشہیر اکثر پسِ پشت ڈال دیتی ہے۔ بھارت بلاشبہ دنیا کی بڑی معیشتوں میں شامل ہے، دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا دعویٰ رکھتا ہے اور خلائی تحقیق، انفراسٹرکچر، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور عالمی سفارت کاری میں نمایاں پیش رفت بھی کر چکا ہے۔ لیکن کسی ریاست کی اصل طاقت صرف اس بات سے ثابت نہیں ہوتی کہ وہ دنیا کے سامنے خود کو کس قدر کامیابی سے پیش کرتی ہے؛ اصل سوال یہ ہے کہ اس ریاست کے عام شہری کو روزمرہ زندگی میں کس معیار کی سہولیات اور کس درجے کی انسانی عزت میسر ہے۔
مدھیہ پردیش سے سامنے آنے والی ایک افسوسناک ویڈیو اور اس حوالے سے سامنے آنے والی رپورٹس کے مطابق ایک خاتون کی میت کو اسپتال سے گھر منتقل کرنے کے لیے کچرا اٹھانے والی گاڑی استعمال کی گئی۔ ایک ایسے ملک میں جہاں حکومت عالمی طاقت بننے، دنیا کی بڑی معیشتوں میں تیسرے نمبر تک پہنچنے اور بھارت کو ’’وشو گرو‘‘ بنانے کے دعوے کرتی ہے، یہ منظر محض انتظامی ناکامی نہیں بلکہ ترقی کے سرکاری بیانیے پر ایک بنیادی سوال ہے۔ ایک ریاست جو اپنے شہریوں کو زندگی کے بعد بھی باوقار طریقے سے گھر پہنچانے کا انتظام نہ کرسکے، اس کی ترقی کے دعوے آخر کس پیمانے پر پرکھے جائیں؟
یہ واقعہ اس لیے بھی زیادہ اہم ہے کہ مدھیہ پردیش بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت والی ریاست ہے اور مودی حکومت کے مشہور ’’ڈبل انجن‘‘ ماڈل کا حصہ ہے۔ اس ماڈل کو طویل عرصے سے اس دلیل کے ساتھ پیش کیا جاتا رہا ہے کہ مرکز اور ریاست میں ایک ہی جماعت کی حکومت ہونے سے انتظامی رکاوٹیں کم ہوتی ہیں، پالیسیوں پر تیزی سے عمل درآمد ہوتا ہے اور ترقی کی رفتار بڑھتی ہے۔ لیکن مدھیہ پردیش کا یہ منظر اس دعوے کے بنیادی سوال کو دوبارہ سامنے لے آتا ہے: اگر ایک ہی سیاسی جماعت کا مرکز اور ریاست دونوں پر کنٹرول انتظامی کارکردگی کی ضمانت ہے تو پھر بنیادی شہری سہولیات کے ایسے مناظر کیوں سامنے آتے ہیں؟
سیاسی ہم آہنگی انتظامی اہلیت کا متبادل نہیں ہوسکتی۔ حکومت کی کارکردگی کا فیصلہ انتخابی نعروں، بڑے منصوبوں، عالمی کانفرنسوں یا سیاسی تشہیر سے نہیں بلکہ اسپتالوں، اسکولوں، سڑکوں، صفائی کے نظام، بلدیاتی اداروں اور ہنگامی خدمات سے ہوتا ہے۔ یہی وہ شعبے ہیں جہاں ریاست براہِ راست اپنے شہری کی زندگی سے جڑتی ہے۔ اگر عالمی سطح پر بھارت کو ایک ابھرتی ہوئی طاقت کے طور پر پیش کیا جارہا ہے لیکن مقامی سطح پر ایک خاندان اپنے عزیز کی میت کے لیے بھی مناسب سرکاری سہولت حاصل نہیں کرسکتا تو پھر یہ سوال اٹھانا ناگزیر ہے کہ ترقی کا فائدہ آخر کس تک پہنچ رہا ہے۔
مودی دور کی سیاست نے بھارت کے عالمی تشخص کو قوم پرستی، تہذیبی عظمت، مذہبی شناخت اور طاقتور قیادت کے تصور کے ساتھ جوڑ دیا ہے۔ ’’وشو گرو‘‘ کا بیانیہ اسی سیاسی تصور کا مرکزی حصہ ہے، جس میں بھارت کو محض ایک ترقی پذیر ملک نہیں بلکہ ایک عظیم تہذیبی قوت اور آنے والی عالمی قیادت کے مرکز کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ یہ بیانیہ سیاسی طور پر مؤثر ہوسکتا ہے، لیکن کسی بھی ریاست کی تہذیبی عظمت کا فیصلہ اس کے نعروں سے نہیں بلکہ اس کے شہریوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک سے بھی ہوتا ہے۔
قومی فخر اپنی جگہ قابلِ فہم ہے۔ بھارتی شہریوں کو اپنے ملک کی خلائی کامیابیوں، معاشی ترقی یا عالمی سفارتی اثر و رسوخ پر فخر کرنے کا مکمل حق ہے۔ لیکن قومی کامیابی پر فخر کو حکومتی احتساب سے فرار کا ذریعہ نہیں بنایا جاسکتا۔ اگر ایک شہری اپنے ملک کی عالمی کامیابیوں پر فخر کرتا ہے تو اسے یہ سوال پوچھنے کا حق بھی حاصل ہے کہ اسی ملک کے اسپتالوں، بلدیاتی اداروں اور بنیادی عوامی خدمات کی حالت کیا ہے۔ قوم پرستی حکومت کو جواب دہی سے بالاتر نہیں کرتی۔
یہاں مودی حکومت کے سیاسی ماڈل کا ایک اہم تضاد بھی سامنے آتا ہے۔ ایک طرف حکومت بھارت کی عالمی طاقت، معاشی عروج اور تہذیبی قیادت کی تصویر پیش کرتی ہے، دوسری طرف ایسے واقعات اس تصویر کے نچلے حصے میں موجود ان کمزوریوں کو ظاہر کرتے ہیں جنہیں عالمی تشہیر کے شور میں نظر انداز کرنا آسان ہے۔ بڑے عالمی اجلاس، میگا پروجیکٹس، مذہبی علامتیں، فوجی نمائشیں اور خلائی کامیابیاں کسی ریاست کی طاقت کے اہم مظاہر ہوسکتے ہیں، لیکن ان میں سے کوئی بھی ایک فعال میونسپل نظام، مؤثر اسپتال یا باوقار ایمرجنسی سروس کا متبادل نہیں۔
ریاست کی اصل آزمائش اس وقت ہوتی ہے جب کوئی کیمرہ موجود نہ ہو، کوئی عالمی رہنما دورے پر نہ ہو، کوئی انتخابی جلسہ نہ ہورہا ہو اور حکومت کو اپنی کارکردگی دنیا کے سامنے دکھانے کی ضرورت نہ ہو۔ اصل سوال یہ ہے کہ اس وقت ریاست عام شہری کے لیے کیا کررہی ہے۔
بھارتی سیاست میں بی جے پی کی انتخابی کامیابی کو بھی محض عوامی لاعلمی یا جذباتیت قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ بھارتی ووٹر مختلف عوامل کو سامنے رکھ کر فیصلہ کرتے ہیں؛ معاشی توقعات، فلاحی پروگرام، قوم پرستی، قیادت، مذہبی و تہذیبی شناخت، نظریاتی وابستگی اور اپوزیشن کی کارکردگی سب اس عمل کا حصہ ہیں۔ تاہم کسی حکومت کی مسلسل انتخابی کامیابی اسے انتظامی ناکامیوں سے بری الذمہ نہیں کرتی۔ ووٹ حکومت کو اختیار دیتا ہے، احتساب سے استثنیٰ نہیں۔
یہ اصول بھارت پر بھی اسی طرح لاگو ہوتا ہے جیسے دنیا کی ہر جمہوریت پر۔ اگر مودی حکومت بھارت کو عالمی طاقت اور ’’وشو گرو‘‘ کے طور پر پیش کرتی ہے تو اسے اسی معیار پر اپنے مقامی نظامِ حکمرانی کا بھی جائزہ لینا ہوگا۔ عالمی طاقت ہونے کا مطلب صرف یہ نہیں کہ ملک بڑے سفارتی اجلاسوں میں نمایاں ہو، بڑی معیشت بنے یا عالمی سیاست میں زیادہ اثر و رسوخ حاصل کرے۔ عالمی طاقت کی اصل پختگی اس وقت ظاہر ہوتی ہے جب اس کے سب سے کمزور شہری کو بھی ریاستی نظام میں عزت، تحفظ اور بنیادی سہولت میسر ہو۔
بھارت کی معاشی اور تکنیکی ترقی کو جھٹلانا حقیقت سے فرار ہوگا، لیکن اسی ترقی کے نام پر بنیادی انتظامی ناکامیوں کو نظر انداز کرنا بھی حقیقت سے انکار ہے۔ ایک ملک بیک وقت جدید ٹیکنالوجی میں آگے بڑھ سکتا ہے اور بنیادی صفائی کے مسائل سے دوچار ہوسکتا ہے۔ وہ عالمی سرمایہ کاری حاصل کرسکتا ہے اور پھر بھی کمزور عوامی انفراسٹرکچر کا سامنا کرسکتا ہے۔ وہ عالمی سطح پر طاقتور نظر آسکتا ہے اور مقامی سطح پر اپنے شہریوں کی بنیادی ضروریات پوری کرنے میں ناکام ہوسکتا ہے۔ مسئلہ ترقی کے وجود کا نہیں، ترقی کے دعوے اور اس کے زمینی ثمرات کے درمیان موجود فاصلے کا ہے۔
مدھیہ پردیش کا یہ واقعہ بھارت کی تمام کامیابیوں کو ختم نہیں کرتا، لیکن یہ مودی حکومت کے اس تاثر کو ضرور چیلنج کرتا ہے کہ سیاسی مرکزیت، قوم پرستی اور بڑے ترقیاتی دعوے خود بخود اچھی حکمرانی میں تبدیل ہوجاتے ہیں۔ اگر ایسا ہوتا تو ایک خاندان کو اپنے عزیز کی میت کچرا اٹھانے والی گاڑی میں گھر لے جانے پر مجبور نہ ہونا پڑتا۔
کسی بھی ریاست کی عظمت کا آخری پیمانہ اس کے بلند ترین طبقے کی آسائش نہیں بلکہ اس کے سب سے کمزور شہری کی حالت ہوتی ہے۔ عالمی طاقت بننے کا دعویٰ اس وقت تک ادھورا ہے جب تک ریاست اپنے عام شہری کو زندگی میں سہولت اور موت کے بعد بھی عزت فراہم کرنے کی صلاحیت ثابت نہ کرے۔
دنیا کی قیادت کا خواب دیکھنے والی ریاست کے لیے شاید سب سے مشکل سوال یہی ہے: جب دنیا کی نظریں اس پر نہ ہوں، جب کوئی عالمی اجلاس نہ ہو، کوئی انتخابی نعرہ نہ ہو اور کوئی پروپیگنڈا مہم نہ چل رہی ہو، تب کیا ریاست اپنے عام شہری کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے؟
کبھی کبھی حکومت کی ترجیحات پر سب سے سخت فیصلہ کسی اپوزیشن لیڈر کی تقریر نہیں دیتی۔ کبھی ایک تصویر ہی کافی ہوتی ہے۔
ایک میت، ایک مجبور خاندان، اور کچرا اٹھانے والی گاڑی۔
وشو گرو کے دعوے کے پیچھے چھپا بھارت شاید اسی ایک منظر میں سب سے زیادہ واضح دکھائی دیتا ہے۔
