اسلام آباد اور راولپنڈی میں طوفانی بارش، صفائی و نکاسیٔ آب کے ناقص انتظامات


اسلام آباد اور راولپنڈی میں حالیہ مون سون کی طوفانی بارشوں نے جہاں گرمی سے پریشان شہریوں کو کچھ ریلیف دیا، وہیں جڑواں شہروں کے ناقص صفائی اور نکاسیٔ آب کے نظام نے شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا۔ گزشتہ دنوں ہونے والی شدید بارشوں کے باعث متعدد نشیبی علاقے زیرِ آب آ گئے، سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگیں اور کئی گھروں اور دکانوں میں بارش کا پانی داخل ہوگیا۔

راولپنڈی میں نالہ لئی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہوئی۔ کٹاریاں کے مقام پر پانی کی سطح 22 فٹ سے بھی تجاوز کر گئی، جس کے بعد شہریوں کو خبردار کرنے کے لیے سائرن بجائے گئے۔ پیرودھائی، صادق آباد، مسلم ٹاؤن اور دیگر علاقوں میں بھی پانی جمع ہونے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
بارش اپنی جگہ ایک قدرتی عمل ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہر سال بارش کے بعد پیدا ہونے والی یہی صورتحال ہماری انتظامیہ کی کارکردگی پر سوالیہ نشان نہیں؟ شہریوں کا کہنا ہے کہ نالوں اور گلیوں کی بروقت صفائی، کچرے کی مناسب تلفی اور برساتی نالوں کی صفائی پر توجہ دی جائے تو بارش کے پانی کی نکاسی بہتر انداز میں ممکن ہے۔

حالیہ بارشوں کے دوران بعض مقامات پر نکاسیٔ آب کے لیے واسا کی ٹیمیں اور بھاری مشینری بھی تعینات کی گئی، تاہم کئی علاقوں میں پانی جمع ہونے اور سڑکوں پر کیچڑ و کچرے کے ڈھیر شہری انتظامات کی کمزوری کو نمایاں کرتے رہے۔
مزید تشویش کی بات یہ ہے کہ پیرودھائی میں نالہ لئی کے قریب بعض ہنگامی سائرن کے خراب ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں، جس سے نشیبی علاقوں میں رہنے والے شہریوں کو بروقت خطرے سے آگاہ ہونے میں مشکلات پیش آئیں۔ ایسے نظام کا فعال ہونا انتہائی ضروری ہے کیونکہ قدرتی آفات کے دوران چند منٹ بھی قیمتی ہوتے ہیں۔

بارش کے بعد صرف پانی نکال دینا ہی انتظامیہ کی ذمہ داری نہیں بلکہ صفائی کا مؤثر نظام بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ گلیوں میں جمع کچرا، بند نالیاں اور سیوریج لائنوں کی ناقص صفائی بارش کے پانی کو راستہ نہیں دیتی، جس کے نتیجے میں معمولی بارش بھی شہریوں کے لیے بڑی مشکل بن جاتی ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ اسلام آباد اور راولپنڈی کی انتظامیہ بارش سے پہلے ہی نالوں، سیوریج لائنوں اور برساتی گزرگاہوں کی مکمل صفائی کو یقینی بنائے۔ حساس علاقوں کی نشاندہی، ہنگامی مشینری کی بروقت دستیابی اور وارننگ سسٹم کی باقاعدہ جانچ بھی مستقل بنیادوں پر کی جانی چاہیے۔
شہریوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ کچرا نالیوں اور برساتی نالوں میں پھینکنے سے گریز کریں۔ انتظامیہ اور عوام اگر اپنی اپنی ذمہ داریاں پوری کریں تو شدید بارش کو بڑے شہری بحران میں تبدیل ہونے سے روکا جا سکتا ہے۔

قدرتی بارش کو روکا نہیں جا سکتا، لیکن اس کے نقصانات کو ضرور کم کیا جا سکتا ہے۔ جڑواں شہروں کے شہری اب صرف وقتی اقدامات نہیں بلکہ ایسا مستقل اور مؤثر نظام چاہتے ہیں جو ہر مون سون میں انہیں پانی، گندگی اور بدانتظامی کے مسائل سے محفوظ رکھ سکے۔

اپنا تبصرہ لکھیں