UK military tanker aircraft providing air refueling support for Saudi defense operations

سعودی عرب پر حملوں کے شدید خطرات، برطانیہ کا بڑا دفاعی فضائی فیصلہ

مشرق وسطیٰ میں تیزی سے بگڑتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال اور بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی کے پیشِ نظر برطانیہ نے سعودی عرب کی سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے ایک اہم اور غیر معمولی دفاعی فیصلے کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے۔ برطانوی وزیراعظم اینڈی برنہم نے تصدیق کی ہے کہ ریاض حکومت کی جانب سے حالیہ تباہ کن حملوں اور مسلسل خطرات کے بعد فوجی تعاون کی باضابطہ درخواست موصول ہوئی تھی، جس پر برطانوی وزیر دفاع اور وزیر خارجہ کے ساتھ انتہائی حساس اور تفصیلی مشاورت کے بعد یہ جرات مندانہ قدم اٹھایا گیا۔ اس دفاعی معاہدے کے تحت برطانیہ اب باضابطہ طور پر سعودی فضائیہ کے جنگی طیاروں کو فضائی حدود میں ایندھن بھرنے یعنی ایئر ٹو ایئر ری فیولنگ کی اہم لاجسٹک صلاحیت فراہم کرے گا۔ مشرق وسطیٰ کے نازک عسکری توازن میں اس اقدام کو انتہائی کلیدی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ اس سے سعودی عرب کی فضائی برتری اور طویل پروازوں کی آپریشنل صلاحیت کئی گنا بڑھ جائے گی، جو خطے کے امن اور دفاعی توازن کے لیے نہایت فیصلہ کن کردار ادا کرے گی۔

برطانوی حکومت اور وزارتِ دفاع کے اعلیٰ حکام کے جاری کردہ وضاحتی بیانات کے مطابق فراہم کی جانے والی یہ فضائی ری فیولنگ معاونت مکمل طور پر دفاعی نوعیت کی ہے اور اس کا بنیادی مقصد حوثی فورسز پر براہ راست حملے کرنا ہرگز نہیں ہے۔ اس اسٹریٹجک تعاون کا اصل ہدف سعودی فضائی حدود میں گشت کرنے والے جدید لڑاکا طیاروں کے فلائنگ دورانیے کو طویل کرنا ہے تاکہ دشمن کی جانب سے فائر کیے جانے والے بیلسٹک میزائلوں، کروز میزائلوں اور کامیکاز ڈرونز کو فضا ہی میں بروقت روکا اور تباہ کیا جا سکے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ حساس فوجی مشن آئندہ چند ہی دنوں کے اندر باضابطہ فعال ہو جائے گا، جس کے لیے رائل ایئر فورس کا ایک خصوصی ٹینکر طیارہ تعینات کیے جانے کی توقع ہے۔ فوجی مبصرین کا خیال ہے کہ فضائی ایندھن کی مسلسل فراہمی سے سعودی عرب کے ریڈارز اور دفاعی جیٹس کو ہر لمحہ ہائی الرٹ رہتے ہوئے ممکنہ فضائی حملوں کا توڑ کرنے میں غیر معمولی مدد اور برتری حاصل ہوگی۔

برطانوی قیادت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ یہ بروقت اقدام نہ صرف سعودی سرحدوں کا دفاع مضبوط بنائے گا بلکہ عالمی معیشت کے سب سے حساس بحری راستوں بالخصوص بحیرہ احمر اور آبنائے باب المندب میں تجارتی بحری جہازوں کی آزادانہ اور محفوظ نقل و حرکت کو بحال رکھنے کے لیے بھی ناگزیر تھا۔ یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے تجارتی کارگو بحری جہازوں اور سعودی سرزمین پر بڑھتے ہوئے میزائل حملوں نے عالمی سپلائی چین کو بری طرح مفلوج کر کے رکھ دیا تھا، جس کے اثرات عالمی تیل کی قیمتوں پر بھی نمایاں ہو رہے تھے۔ لندن حکومت کا ماننا ہے کہ اگر ان خطرات کا بروقت مؤثر تدارک نہ کیا جاتا تو پورا خطہ ایک نہ رکنے والی بڑی جنگ کے دہانے پر پہنچ سکتا تھا۔ لہٰذا برطانیہ کا یہ سیکیورٹی امدادی مشن نہ صرف خلیجی خطے کے استحکام کا ضامن بنے گا بلکہ عالمی تجارتی روٹس کو محفوظ بنانے اور خطے کو طویل المیعاد معاشی و عسکری تباہی سے محفوظ رکھنے کے لیے بھی ایک مضبوط اسٹریٹجک ڈھال ثابت ہوگا۔

اپنا تبصرہ لکھیں