Smoke and destruction in Yemen coastal city of Mokha after Saudi coalition airstrikes

یمن پر شدید فضائی بمباری، موخا میں ہلاکتیں اور کشیدگی میں اضافہ

یمن کے اسٹریٹجک ساحلی اور تاریخی پورٹ سٹی موخا پر سعودی قیادت میں قائم عسکری اتحاد کے شدید فضائی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 6 افراد جاں بحق جبکہ 8 شدید زخمی ہو گئے ہیں۔ حوثیوں کے زیرِ انتظام سرکاری خبر رساں ادارے ’صبا‘ کے جاری کردہ ہنگامی بیانات کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں دو معصوم بچے اور ایک خاتون بھی شامل ہیں، جبکہ زخمیوں میں بھی خواتین اور بچے موجود ہیں جنہیں قریبی طبی مراکز میں فوری امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ اگرچہ اس غیر معمولی بمباری کے نتیجے میں ہونے والے جانی و مالی نقصانات کی آزاد ذرائع سے فوری اور غیر جانبدارانہ تصدیق نہیں ہو سکی، تاہم بحیرہ احمر کے ساحلی پٹی پر واقع گنجان آباد مقامات پر جیٹ طیاروں کی گھن گرج اور متواتر دھماکوں نے عام شہریوں میں شدید خوف و ہراس پھیلا دیا ہے۔ مقامی عینی شاہدین کے مطابق بمباری کے فوری بعد بندرگاہ کے ارد گرد اور رہائشی علاقوں سے دھوئیں کے سیاہ بادل اٹھتے دیکھے گئے، جس کے باعث پورے خطے میں ہائی الرٹ نافذ کر دیا گیا ہے۔

یہ ہلاکت خیز فضائی کارروائی ایک ایسے انتہائی نازک وقت پر سامنے آئی ہے جب یمن کی طویل خانہ جنگی میں سعودی حمایت یافتہ حکومتی فوج اور حوثی جنگجوؤں کے مابین زمینی جھڑپیں خطرناک حد تک شدت اختیار کر چکی ہیں۔ حوثی عسکری دستوں کی جانب سے بحیرہ احمر کے اہم ساحلی زونز اور تزویراتی چوکیوں کی جانب تیزی سے پیش قدمی کی کوششوں کے بعد سعودی عرب اور اس کے اتحادی ممالک نے دفاعی حکمت عملی کے تحت فضائی بمباری کا دائرہ کار غیر معمولی طور پر وسیع کر دیا ہے۔ عسکری تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ موخا پر یہ تازہ ترین فضائی حملے حوثیوں کے اسٹریٹجک پھیلاؤ کو روکنے اور ساحلی لائن پر ان کی عسکری نقل و حرکت کو مفلوج کرنے کی مربوط کوشش ہیں، تاہم عام آبادی والے علاقوں میں بم گرنے کے واقعات نے انسانی بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے جس سے امن کی تمام تر سفارتی کوششوں کو زبردست دھچکا لگنے کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب اس تیز تر عسکری تنازع کے اثرات اب عالمی سفارت کاری اور توانائی کے شعبے پر بھی گہرے ہوتے دکھائی دے رہے ہیں، جہاں یمن کی صدارتی گورننگ کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے حوثیوں کی پیش قدمی کے خلاف امریکی عسکری مدد طلب کی ہے، تاہم ذرائع کے مطابق واشنگٹن کی جانب سے کسی فوری یا براہِ راست فوجی مداخلت کی حتمی یقین دہانی نہیں کرائی گئی۔ موخا کی جغرافیائی حیثیت اور بین الاقوامی سمندری گزرگاہ آبنائے باب المندب کے دہانے پر جاری اس طویل عسکری محاذ آرائی نے عالمی تجارتی راستوں اور تیل کی بین الاقوامی ترسیل کی حفاظت پر سنگین سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔ ماہرینِ معاشیات نے واضح متنبہ کیا ہے کہ اگر کارگو جہازوں اور بحری راستوں کی یہ سیکیورٹی صورتحال جلد بہتر نہ ہوئی تو نہ صرف خلیج میں بحری ٹریفک بند ہو جائے گی بلکہ خام تیل کی قیمتوں میں بھی عالمی سطح پر بے پناہ اضافہ دیکھنے میں آ سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں