کراچی: صدر میں ایف آئی اے (FIA) کی جانب سے جیولرز کی دکان پر مبینہ چھاپہ اور تاجر پر تشدد، تاجر برادری کا شدید ردعمل اور ملک گیر احتجاج کا انتباہ

’’جیولرز کے پاس سونا چاندی نہیں ہوگا تو کیا سبزی ہوگی؟‘‘ تاجروں کو ہراساں کرنے اور اختیارات کے ناجائز استعمال پر شدید تشویش، ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ

ویب ڈیسک

کراچی: وفاتی دارالحکومت کے بعد صوبائی دارالحکومت کراچی کے معروف تجارتی مرکز صدر میں وفاقی تحقیقاتی ادارے (FIA) کی جانب سے کی جانے والی ایک مبینہ کارروائی اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال نے تاجر برادری میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔ اطلاعات کے مطابق، گذشتہ روز (14 مئی 2026) کو ایف آئی اے کے اہلکاروں نے صدر کے علاقے میں واقع ایک جیولری شاپ پر چھاپہ مارا، جس کے دوران دکان پر موجود عملے کے ساتھ ساتھ دکان کے مالک پر مبینہ طور پر تشدد کیا گیا اور ان کے ساتھ ناروا سلوک برتا گیا، جسے تاجر رہنماؤں نے شدید تشویشناک، قابلِ مذمت اور ناقابلِ برداشت قرار دیا ہے۔

تجارتی حلقوں اور سونا چاندی مارکیٹ کے نمائندوں کی جانب سے جاری کردہ مشترکہ بیانات میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی سرکاری یا وفاقی ادارے کو اگر کسی معاملے پر قانونی کارروائی کرنی ہے تو وہ قانون کے دائرے میں رہ کر کرے۔ لیکن قانون نافذ کرنے والے اداروں کی آڑ میں کسی بھی عزت دار تاجر کو ہراساں کرنا، اسے جسمانی تشدد کا نشانہ بنانا، کاروباری مقام کی بے حرمتی کرنا اور اپنے سرکاری اختیارات کا ناجائز استعمال کرنا کھلی زیادتی اور سراسر ظلم ہے۔

تاجر رہنماؤں نے اس موقع پر برہم ہوتے ہوئے ایک منطقی سوال اٹھایا کہ ’’اگر ایک جیولر کی دکان پر سونا اور چاندی موجود نہیں ہوگا تو کیا وہاں سبزی فروخت ہوگی؟‘‘ انہوں نے کہا کہ قانونی کاروبار کرنے والوں کو جرائم پیشہ افراد کی طرح نشانہ بنانا معاشی پہیے کو روکنے کے مترادف ہے۔ تاجر برادری نے واضح کیا ہے کہ وہ اس ظلم، دھونس اور غیر قانونی ہتھکنڈوں کے سامنے کسی صورت خاموش نہیں رہے گی اور اپنے تحفظ کے لیے ہر حد تک جائے گی۔

رپورٹ کے مطابق، کراچی کی تاجر برادری اور جیولرز ایسوسی ایشن نے اعلیٰ حکام، بشمول ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے اور وزارتِ داخلہ سے مطالبہ کیا ہے کہ صدر میں تاجر پر تشدد اور بدسلوکی کرنے والے ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف فوری اور شفاف انکوائری شروع کی جائے۔

تاجروں نے انتباہ جاری کیا ہے کہ اگر ملوث افسران اور اہلکاروں کے خلاف فوری کارروائی عمل میں نہ لائی گئی تو تاجر برادری اپنے حقوق اور عزتِ نفس کے تحفظ کے لیے شٹر ڈاؤن ہڑتال، سخت احتجاج، قانونی چارہ جوئی اور تمام جائز آئینی آپشنز استعمال کرنے پر مجبور ہوگی، جس کی تمام تر ذمہ داری انتظامیہ پر عائد ہوگی۔

اپنا تبصرہ لکھیں