
کراچی کا بلدیاتی نظام دیکھ کر کبھی کبھی یوں محسوس ہوتا ہے کہ میئر کے لیے سب سے آسان کام کھلی کچہری لگانا ہے؛ کچہری میں آنے والے مسئلے کو بند کرنا نسبتاً مشکل معاملہ ہے۔ شہری گٹر کا ڈھکن مانگتا ہے، مگر گفتگو سنتے سنتے اُسے پورے انتظامی نظام کا ڈھکن کھولنا پڑ جاتا ہے۔ یہ طنز ضرور ہے، لیکن اس کے پیچھے ایک حقیقی تضاد موجود ہے: میئر کے پاس منصب اور اختیارات ہیں، مگر بعض اہم فیصلوں کی کنجی صوبائی حکومت کے پاس بھی رکھی گئی ہے۔ کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کے ۲۰۲۳ کے قانون کو ہی دیکھیے۔ میئر بورڈ کا چیئرپرسن ہے، لیکن دفعہ ۷(v) اسامیاں بنانے یا ختم کرنے، عملہ مقرر کرنے اور ملازمت کی شرائط طے کرنے کے اختیار کو حکومتی منظوری سے جوڑتی ہے۔ دفعہ ۸ بورڈ کے لیے حکومتی پالیسی ہدایات کی پابندی کا بندوبست کرتی ہے۔ یعنی شہری جس شخص کو ادارے کا سربراہ سمجھ کر مسئلہ سنانے پہنچتا ہے، اُس کی انتظامی طاقت بھی منظوری کی شرائط میں بندھی ہوئی ہے۔ ہر چھوٹے کام کے لیے وزیراعلیٰ کی ذاتی اجازت ضروری نہیں، مگر اہم انتظامی فیصلوں پر صوبائی گرفت ایک قانونی حقیقت ہے۔ مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب عوام کے سامنے سربراہی کا اعلان نمایاں ہو اور اُس سربراہی کے ساتھ لگی شرائط باریک حروف میں رہ جائیں۔ پھر شہر کا سربراہ کبھی فیصلہ کرنے والا دکھائی دیتا ہے اور کبھی درخواست آگے پہنچانے والا۔
اس انتظام کا زیادہ دلچسپ نمونہ کچرے کے شعبے میں ملتا ہے۔ ۱۶ اکتوبر ۲۰۲۶ کی ڈان رپورٹ کے مطابق سندھ اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے بتایا کہ ۲۰۲۱ کے قانون کے تحت میئرز کی سربراہی میں تشکیل پانے والے ڈویژنل سالڈ ویسٹ بورڈز بنائے ہی نہیں گئے اور قواعد بھی وضع نہیں ہوئے۔ اسی اجلاس میں ادارے کے سربراہ نے کراچی سے کچرا اٹھانے پر سالانہ ۲۴ ارب روپے خرچ ہونے اور روزانہ ۱۰ سے ۱۲ ہزار ٹن کچرا اٹھائے جانے کی بات کی، جبکہ کمیٹی نے کچرا نہ اٹھنے کی مسلسل شکایات پر ضلع وار حساب طلب کیا۔ گویا قانون نے میئر کے لیے میز اور کرسی کا تصور تیار کر دیا، لیکن جس بورڈ میں بیٹھ کر نگرانی ہونی تھی، وہی تشکیل نہ پایا۔ کچرا روزانہ پیدا ہو رہا ہے؛ اختیار کی منتقلی ابھی انتظامی مراحل میں ہے۔ مالی تصویر بھی سرخیوں سے مختلف ہے۔ ۲۰۲۶–۲۷ کا KMC بجٹ تقریباً ۶۰ ارب ۴۵ کروڑ روپے ہے، مگر اس میں تقریباً ۱۸ ارب ۲۱ کروڑ روپے پنشن اور متعلقہ بیل آؤٹ پیکیج کے لیے مختص ہیں۔ اپنے وسائل سے ترقیاتی منصوبوں کے لیے تقریباً ۸ ارب ۵۹ کروڑ روپے رکھے گئے۔ پنشن ملازمین کا حق ہے، لیکن ان اعداد سے واضح ہے کہ ساٹھ ارب کی سرخی کا مطلب ساٹھ ارب کی نئی تعمیرات نہیں۔ شہری پورا بجٹ سن کر پورا شہر درست ہونے کی امید لگاتا ہے، جبکہ رقم کا بڑا حصہ پہلے سے طے شدہ ذمہ داریوں کا مسافر ہوتا ہے۔ اس دوران پانی کی ضرورت انتظار نہیں کرتی: ستمبر ۲۰۲۶ کی رپورٹ میں کراچی کی روزانہ طلب تقریباً ۱۲۰ کروڑ گیلن اور فراہمی صرف ۵۵ سے ۶۵ کروڑ گیلن بتائی گئی۔ فائل اپنی رفتار سے چل سکتی ہے؛ خالی بالٹی کو روزانہ جواب چاہیے۔
تقابل کے لیے پورے امریکا کو ایک جیسا سمجھنے کے بجائے نیویارک کی مثال لیجیے۔ شہر کی سرکاری گائیڈ کے مطابق وہاں میئر ۴۰ سے زیادہ شہری ایجنسیوں کے کمشنرز کو مقرر اور برطرف کرنے کا اختیار رکھتا ہے اور سالانہ بجٹ کی تیاری اور انتظام کی ذمہ داری بھی اُس کے پاس ہے۔ بجٹ کا جائزہ اور منظوری سٹی کونسل دیتی ہے؛ اس لیے وہاں بھی میئر قانون اور نگرانی سے آزاد نہیں۔ فرق یہ ہے کہ اس مثال میں شہری انتظام کی ذمہ داری کے ساتھ متعلقہ اداروں کی قیادت پر واضح اختیار بھی نظر آتا ہے۔ کراچی میں واٹر کارپوریشن کی سربراہی میئر کے پاس ہو، اہم انتظامی فیصلوں میں صوبائی منظوری شامل ہو، اور صفائی کی مقامی نگرانی کے لیے مطلوب بورڈ ہی تشکیل نہ پائے تو جواب دہی کی تصویر دھندلی ہو جاتی ہے۔ البتہ یہ دھند میئر کو بری الذمہ بھی نہیں کرتی۔ جو اختیار موجود ہے، اُس کا نتیجہ دکھانا ہوگا؛ جو منظوری رکی ہوئی ہے، اُس کی تاریخ اور ذمہ دار دفتر بتانا ہوگا۔ شہری کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ مسئلہ فیصلے کی کمی سے رکا ہے، پیسے کی کمی سے یا کام نہ ہونے سے۔ ایک عوامی فہرست ہی جاری کر دی جائے کہ کون سی تجویز کب بھیجی گئی اور کہاں زیرِ التوا ہے، تو اختیارات کی آدھی بحث واضح ہو سکتی ہے۔ کراچی کو صرف کھلی کچہری نہیں، بند مسئلے بھی چاہییں۔ گٹر کا ڈھکن لگانا ضروری ہے، مگر اتنے بڑے شہر کی میئرشپ کو گٹر کے ڈھکن تک محدود سمجھا جانے لگے تو مرمت صرف گٹر کی نہیں، نظام کی بھی درکار ہے۔
