جامعہ کراچی میں ملازمین اساتذہ افسران اور طلبہ کا تاریخی احتجاج، مطالبات منظور نہ ہونے پر سخت ردعمل کا اعلان

جامعہ کراچی کے سلور جوبلی گیٹ پر ہزاروں ملازمین اساتذہ افسران اور طلبہ کا مشترکہ احتجاج دھرنا مطالبات کی منظوری کیلئے شدید نعرے بازی

انتظامیہ کی جانب سے مسائل کے حل میں مسلسل تاخیر پر شرکاء کا اظہار تشویش پانچ منٹ کیلئے یونیورسٹی روڈ بند کر کے احتجاج ریکارڈ کروایا

مقررین کا انتباہ مطالبات تسلیم نہ ہوئے تو احتجاج کا دائرہ وسیع کر کے مکمل یونیورسٹی روڈ بند کرنے سمیت مزید سخت اقدامات کیے جائیں گے

اساتذہ ملازمین افسران اور طلبہ تنظیموں کی بھرپور شرکت مختلف گروپس کی حمایت احتجاج جاری رکھنے اور حقوق کے حصول کیلئے عزم کا اظہار

کراچی (اسٹاف رپورٹر) جامعہ کراچی میں جاری احتجاجی تحریک کے سلسلے میں سلور جوبلی گیٹ پر ایک بڑا اور تاریخی احتجاجی دھرنا منعقد کیا گیا جس میں ہزاروں کی تعداد میں اساتذہ، افسران، ملازمین اور طلبہ و طالبات نے شرکت کی۔ احتجاجی مظاہرے میں شریک افراد نے اپنے مطالبات کے حق میں زوردار نعرے بازی کی اور جامعہ کراچی کی انتظامیہ کی جانب سے مسائل کے حل میں مسلسل تاخیر پر شدید برہمی اور تشویش کا اظہار کیا۔

احتجاج کے دوران شرکاء نے علامتی طور پر پانچ منٹ کے لیے مین یونیورسٹی روڈ کو بند کیا تاکہ متعلقہ حکام اور اعلیٰ اداروں کی توجہ جامعہ کراچی کے سنگین مسائل کی جانب مبذول کروائی جا سکے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ وہ کافی عرصے سے اپنے جائز مطالبات کے لیے آواز اٹھا رہے ہیں مگر ان کے مسائل کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے جس کے باعث انہیں سڑکوں پر آنے پر مجبور ہونا پڑا۔احتجاجی دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے مختلف مقررین نے واضح کیا کہ اگر اساتذہ، افسران اور ملازمین کے جائز مطالبات کو فوری طور پر تسلیم نہ کیا گیا تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کر دیا جائے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ آئندہ کے مرحلے میں مکمل یونیورسٹی روڈ کو بند کرنے سمیت دیگر سخت احتجاجی اقدامات کیے جائیں گے جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائد ہوگی۔

اس احتجاجی دھرنے کی مشترکہ صدارت صدر ایمپلائز ویلفیئر ایسوسی ایشن زاہد حسین بلوچ، صدر انجمن اساتذہ ڈاکٹر غفران عالم اور صدر آفیسرز ویلفیئر ایسوسی ایشن سید فیصل ہاشمی نے کی۔ مقررین نے اپنے خطاب میں سندھ حکومت اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ جامعہ کراچی کے مسائل کا فوری نوٹس لیا جائے اور ان کے حل کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں تاکہ تعلیمی ماحول متاثر نہ ہو۔دھرنے میں جامعہ کراچی کے مختلف گروپس اور تنظیموں نے بھرپور شرکت کی جن میں انصاف پسند گروپ، ملازمین اتحاد گروپ، نیوٹرل ایمپلائز گروپ، جنرل ورکرز اتحاد گروپ سمیت دیگر نمائندہ تنظیمیں شامل تھیں۔ اس کے علاوہ پختون اسٹوڈنٹ کونسل نے بھی احتجاج میں شرکت کی جبکہ انجمن طلبہ اسلام کے نمائندے بلال نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا اور مطالبات کی حمایت کا اعلان کیا۔شرکاء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ اپنے حقوق کے حصول تک احتجاجی تحریک جاری رکھیں گے اور ہر آئینی و جمہوری راستہ اختیار کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ جامعہ کراچی کے اساتذہ، ملازمین اور طلبہ کو درپیش مسائل کا حل ناگزیر ہو چکا ہے اور اب مزید تاخیر کسی صورت قبول نہیں کی جائے گی۔جاری کردہ اعلامیے کے مطابق ایمپلائز ویلفیئر ایسوسی ایشن، انجمن اساتذہ جامعہ کراچی اور آفیسرز ویلفیئر ایسوسی ایشن نے مشترکہ طور پر اس احتجاجی تحریک کو جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے اور مطالبات کی منظوری تک جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں