Exterior view of Supreme Court building Islamabad representing Law and Justice Commission constitutional recommendations

لا اینڈ جسٹس کمیشن کی اہم سفارش: انٹرنیشنل کمرشل کورٹ کے قیام کے لیے آئینی ترمیم کی تجویز

لا اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان نے ملک میں بین الاقوامی تجارتی تنازعات کے فوری، شفاف اور مؤثر حل کے لیے “انٹرنیشنل کمرشل کورٹ آف پاکستان” کے قیام کی باقاعدہ سفارش کر دی ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان کی زیرِ صدارت منعقدہ کمیشن کے 49ویں اجلاس میں اٹارنی جنرل، ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان، سیکرٹری وزارتِ قانون اور وفاقی وزیرِ قانون و انصاف نے شرکت کی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ اس مجوزہ عدالت کے قیام کے لیے پاکستان کے آئین میں ایک نیا آرٹیکل 212A شامل کرنے کی تجاویز وفاقی حکومت کو قانون سازی کے لیے ارسال کی جائیں گی تاکہ ملکی تجارتی نظامِ انصاف کو عالمی معیار کے مطابق ڈھالا جا سکے۔

مجوزہ انٹرنیشنل کمرشل کورٹ آف پاکستان ایک مکمل طور پر آزاد وفاقی اعلیٰ عدالت ہوگی، جو بین الاقوامی تجارت، سرمایہ کاری اور کارپوریٹ سیکٹر کے تنازعات کو تیزی سے حل کرنے کی ذمہ دار ہوگی۔ یہ نئی اعلیٰ عدالت ثالثی ایوارڈز (Arbitration Awards) کے مؤثر اور فوری نفاذ کو یقینی بنائے گی، جس سے عالمی اور ملکی تجارتی قوانین میں یکسانیت پیدا ہوگی۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد غیر ملکی اور مقامی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کرنا ہے تاکہ پاکستان کو بین الاقوامی تجارت، شفاف سرمایہ کاری اور صنعتی سرگرمیوں کے لیے ایک پرکشش، محفوظ اور معتبر ملک بنایا جا سکے۔

اس کے علاوہ اجلاس میں بینکنگ کمپنیز آرڈیننس میں اہم ترمیمی منظوری بھی دی گئی، جس کے تحت بینکنگ محتسب کا دائرۂ اختیار اب مائیکرو فنانس بینکوں اور اداروں کے صارفین تک وسیع کیا جائے گا۔ اس اصلاحاتی اقدام سے ملک بھر کے لاکھوں مائیکرو فنانس صارفین کو اپنی شکایات کے کم خرچ، آسان اور فوری ازالے کا بہترین نظام میسر آئے گا جس سے مالیاتی شمولیت کو فروغ ملے گا۔ لا اینڈ جسٹس کمیشن نے اعادہ کیا کہ جدید، شفاف اور جوابدہ عدالتی اصلاحات کے ذریعے پاکستان میں پائیدار معاشی ترقی اور براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI) کے لیے سازگار قانونی ماحول فراہم کرنے کے اقدامات جاری رہیں گے۔

اپنا تبصرہ لکھیں