میر رضا علی کا قتل: کراچی میں انصاف کا بحران بے نقاب.

میرا قلم آج کانپ رہا ہے۔ سمجھ نہیں آ رہا کہ غصے پر قابو پاؤں یا اس بے بسی پر ماتم کروں جس نے اس شہر کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ کراچی، جو کبھی خواب دیکھنے والوں کو پناہ دیتا تھا، آج ان خوابوں کی قبرگاہ بن چکا ہے۔ میر رضا علی کوئی عام لڑکا نہیں تھا؛ وہ ان چند پاگلوں میں سے ایک تھا جو آج بھی یہ مانتے تھے کہ “پاکستان بہت خوبصورت ہے، ہم یہیں رہیں گے، ہم اپنا کراچی خود بنائیں گے۔” اس نے ڈگریاں لے کر باہر جانے کی لائن میں لگنے کے بجائے، یہیں اپنا کاروبار ‘Wafflix’ کھڑا کیا۔ اور اس شہرِ بے حس نے اسے کیا دیا؟ سینے میں گولی، جسم پر تشدد کے نشان، اور جھاڑیوں میں پڑی ہوئی لاش۔ میرا سوال اس ریاست سے ہے، ان حکمرانوں سے ہے، اور اس پولیس سے ہے جس کی ترجیحات دیکھ کر خون کھولتا ہے۔ ہمیں یاد ہے، اور بہت اچھی طرح یاد ہے، جب ایک مشہور کرکٹر کا کتا گم ہوا تھا، تو پوری سندھ پولیس کی دوڑیں لگ گئی تھیں۔ پریس کانفرنسز ہو رہی تھیں، چھاپے مارے جا رہے تھے۔ ایک کتے کے لیے پوری ریاستی مشینری جاگ اٹھی تھی! اور یہاں؟ ایک پچیس سالہ نوجوان، ایک ماں کا غرور، ایک باپ کا سہارا، بے دردی سے مار کر پھینک دیا گیا، اور پولیس کئی دن تک خاموش تماشائی بنی رہی۔ “خودکشی” کے بے ہودہ نظریات گھڑے گئے۔ کیا کسی غریب یا عام شہری کے خون کا رنگ اتنا سستا ہے؟ جب تین تلوار، شارع فیصل، اور دیگر اہم مقامات پر کراچی کی نسلِ نو (Gen Z) نے سڑکیں بلاک کیں، جب انہوں نے حکمرانوں کے گریبانوں پر ہاتھ ڈالا، تب جا کر ان کے کانوں پر جوں رینگی۔ اب سنا ہے کہ پولیس، سی آئی اے، اور سی پی ایل سی (CPLC) کی مشترکہ تفتیشی ٹیم بنا دی گئی ہے۔ کیا اس ملک میں انصاف مانگنے کے لیے اور ایک ایف آئی آر کٹوانے کے لیے سڑکیں بند کرنا اور ٹائر جلانا ہی واحد راستہ رہ گیا ہے؟ اور اگر یہ ریاستی بے حسی کم تھی، تو ہمارے معاشرے کے گدھ بھی پیچھے نہیں رہے۔ سوشل میڈیا کے نام نہاد دانشوروں اور یوٹیوبرز نے چند کلکس اور ویوز کی خاطر ایک نوجوان کی لاش کا تماشا بنا دیا۔ بغیر کسی ثبوت کے اس کے بزنس پارٹنر احمد بھارڈی پر انگلیاں اٹھائی گئیں۔ میں مانता ہوں کہ تفتیش ہونی چاہیے، ہر پہلو سے ہونی چاہیے، لیکن انٹرنیٹ پر عدالتیں لگا کر کسی کو قاتل قرار دے دینا کون سی انسانیت ہے؟ کیا آپ لوگوں کے سینے میں دل ہے یا صرف کیمرے کا لینس؟ ایک خاندان جس نے اپنے جوان بیٹے کا جنازہ اٹھایا ہے، آپ ان کے زخموں پر نمک کیوں چھڑک رہے ہیں؟ یہ بے بسی اس وقت اور بھی خوفناک ہو جاتی ہے جب پتہ چلتا ہے کہ جس باپ نے اگست میں اپنے بیٹے کی شادی کی تیاریاں کرنی تھیں، جو سہرا باندھنے کے خواب دیکھ رہا تھا، اسے اب بین الاقوامی نمبروں سے موت کی دھمکیاں مل رہی ہیں۔ ریاست کہاں ہے؟ کیا ہمارے ادارے اتنے کھوکھلے ہو چکے ہیں کہ ایک سوگوار باپ کو تحفظ تک نہیں دے سکتے؟ میر رضا کی موت صرف ایک قتل نہیں ہے، بلکہ اس شہر کے منہ پر ایک طمانچہ ہے۔ اگر آج رضا کے قاتلوں کو کیفرِ کردار تک نہ پہنچایا گیا، تو یاد رکھیں، کل کوئی اور رضا بھی اس بربریت کا نشانہ بن سکتا ہے۔ ہمیں سڑکوں پر نکلنے والے ان نوجوانوں کا ساتھ دینا ہوگا۔ ان کی آواز میں آواز ملانی ہوگی، کیونکہ اگر آج ہم خاموش رہے، تو کل یہ خاموشی ہمارے اپنے گھروں کا دروازہ کھٹکھٹائے گی۔ میر رضا کے خون کا حساب اس شہر کو دینا ہوگا۔

اپنا تبصرہ لکھیں