پاکستان بھر کے کروڑوں موبائل صارفین کے لیے ایک انتہائی بری خبر سامنے آئی ہے جہاں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی باضابطہ منظوری کے بعد تمام ٹیلی کام کمپنیوں نے کال اور ڈیٹا پیکجز کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ کر دیا ہے۔ جاری کردہ تفصیلات کے مطابق پیکجز کی قیمتوں میں سالانہ بنیادوں پر 19 سے لے کر 33 فیصد تک کا معقول اور بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد پہلے سے مہنگائی کے مارے عوام پر ایک نیا معاشی بوجھ آن پڑا ہے۔ کمپنیوں کی جانب سے ماہانہ، ہفتہ وار، تین روزہ اور روزانہ کی بنیاد پر فراہم کی جانے والی مختلف خدمات کی ٹیرف شیٹس میں نمایاں تبدیلی کر دی گئی ہے جس کا براہِ راست اثر عام شہری کی جیب پر پڑے گا۔
تفضیلات کے مطابق سب سے بڑا اضافہ ماہانہ ہائبرڈ اور ڈیٹا پیکجز میں دیکھا گیا ہے جہاں قیمتوں میں 500 روپے تک کی بھاری بڑھوتری کی گئی ہے، جبکہ 15 روزہ کال اور انٹرنیٹ پیکجز کی قیمتوں کو بھی 300 روپے تک بڑھا دیا گیا ہے۔ اسی طرح ہفتہ وار استعمال ہونے والے ہائبرڈ اور ڈیٹا پیکجز 130 روپے تک مہنگے کر دیے گئے ہیں۔ صرف یہی نہیں بلکہ چھوٹے پیکجز کو بھی اس مہنگائی کی لہر سے نہیں بخشا گیا؛ تین روزہ پیکجز کی قیمتوں میں 21 روپے، دو روزہ پیکجز میں 20 روپے اور ایک روزہ ہائبرڈ پیکجز کے نرخوں میں 5 روپے تک کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔ اس اچانک اور یکدم اضافے سے ان طلبا، ملازمین اور دیہاڑی دار طبقے کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جو روزمرہ رابطے اور کام کے لیے ان پیکجز پر انحصار کرتے ہیں۔
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے 15 اہم ہائبرڈ اور ڈیٹا اونلی پیکجز کی نئی ٹیرف شیٹس اپنی سرکاری ویب سائٹ پر باضابطہ طور پر جاری کر دی ہیں جہاں تمام کمپنیوں کے موجودہ اور نئے نرخ، سہ ماہی جائزوں کا ڈیٹا اور صارفین کو فراہم کی جانے والی والی سہولیات کی مدت و تفصیلات اپ لوڈ کر دی گئی ہیں۔ کمپنیوں کا کہنا ہے کہ آپریٹنگ اخراجات، ڈالر کے مقابلے میں روپیہ اور مہنگائی کی وجہ سے یہ قدم اٹھانا ضروری تھا، تاہم عوام اور صارفین کے حلقوں میں پی ٹی اے کی جانب سے اس اضافے کی منظوری پر شدید تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ شہریوں نے حکومت سے مطالبات کیے ہیں کہ انٹرنیٹ اور کالنگ جیسی بنیادی سہولیات کو مزید مہنگا کرنے کے بجائے قیمتوں کو کنٹرول میں لایا جائے۔
