MQM Pakistan leader Mustafa Kamal addressing party workers meeting in Karachi

ایم کیو ایم میں اندرونی خلفشار کی بڑی کہانی: وسیم اختر کو گورنر سندھ بننے سے خالد مقبول صدیقی نے رکوایا، مصطفیٰ کمال کے سنسنی خیز انکشافات!

کراچی (ویب ڈیسک) — 13 جولائی 2026

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے اندرونی اختلافات ایک بار پھر کھل کر سطح پر آ گئے ہیں۔ وفاقی وزیر اور ایم کیو ایم کے سینئر رہنما مصطفیٰ کمال نے اپنی ہی پارٹی کے چیئرمین خالد مقبول صدیقی پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ سابق میئر کراچی وسیم اختر کو گورنر سندھ بننے سے کسی اور نے نہیں بلکہ خود خالد مقبول صدیقی نے خفیہ طور پر رکوایا تھا۔ کراچی میں ایک بڑے جنرل ورکرز اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ وسیم اختر کی ناراضگی اور دوری کی وجہ وہ خود نہیں بلکہ پارٹی کے موجودہ چیئرمین کی مبینہ منافقت ہے۔

مصطفیٰ کمال نے اجلاس کے دوران ایک انتہائی دلچسپ اور سنسنی خیز قصہ سناتے ہوئے دعویٰ کیا کہ جب وسیم اختر کو گورنر سندھ بننے کی خواہش ہوئی تو انہوں نے اس وقت کے پارٹی کنوینر خالد مقبول صدیقی سے کہا کہ وہ وزیراعظم کے نام ایک سفارشی خط تیار کریں۔ خالد مقبول صدیقی نے نہ صرف خط تیار کیا بلکہ وسیم اختر کو ساتھ لے کر وزیراعظم سے ملاقات کے لیے بھی پہنچ گئے اور وہاں باقاعدہ طور پر خط پیش کرتے ہوئے کہا کہ “ہم نے وسیم اختر کو گورنر سندھ کے لیے نامزد کیا ہے۔” مصطفیٰ کمال کے مطابق، اصل ڈرامہ اس وقت ہوا جب ملاقات ختم ہوئی؛ خالد مقبول صدیقی نے الوداع کہتے وقت وزیراعظم کے کان میں دھیمے سے کہا کہ “جو لیٹر میں نے ابھی آپ کو دیا ہے، اس پر بالکل عمل نہیں کرنا ہے۔”

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ آج یہ تاثر عام ہے کہ وسیم اختر کی لڑائی ہم سے ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ جب ہم پارٹی میں واپس آئے تو ہم نے ماضی کے تمام اختلافات اور نفرتیں بھلا دی تھیں، وسیم اختر کا اصل اختلاف خالد مقبول صدیقی کی اسی دوغلی پالیسی سے ہے۔ اس سیاسی دھماکے کے ساتھ ہی مصطفیٰ کمال نے سندھ حکومت کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت 18 سالوں میں وفاق سے 22 ہزار ارب روپے لینے کے باوجود کراچی اور حیدرآباد کو بنیادی سہولیات دینے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ سندھ کے شہری علاقوں کو ان کے جائز حقوق دلانے کے لیے ایم کیو ایم 26 جولائی سے ایک ملک گیر احتجاجی تحریک کا آغاز کرنے جا رہی ہے جس کا مقصد موجودہ گورننس ماڈل کو یکسر تبدیل کرنا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں