Former Karachi Mayor Waseem Akhtar addressing press conference at Karachi Press Club along with other MQM leaders

ایم کیو ایم میں اب کوئی چہرہ قیادت کے قابل نہیں، پارٹی کے گرتے گراف اور شدید دھڑے بندی پر سابق میئر وسیم اختر پھٹ پڑے!

کراچی (ویب ڈیسک) — 14 جولائی 2026

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے اندرونی اختلافات اب گلی کوچوں سے نکل کر کراچی پریس کلب کے چبوترے تک پہنچ گئے ہیں۔ ایم کیو ایم کے سینئر رہنما اور سابق میئر کراچی وسیم اختر نے پارٹی کے خاموش اور ناراض رہنماؤں سلیم تاجک اور وسیم آفتاب کے ہمراہ اچانک ایک ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے پارٹی کی موجودہ حالتِ زار پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ وسیم اختر نے انتہائی تلخ لہجے میں صاف صاف کہہ دیا ہے کہ “ایم کیو ایم میں فی الحال کوئی بھی چہرہ ایسا نہیں ہے جو اکیلے قیادت کے قابل ہو، اور اگر یہ ذاتی اختلافات اور لڑائیاں اسی طرح برقرار رہیں تو ہم کس منہ سے عوام میں جائیں گے؟”

سابق میئر کراچی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج پریس کلب آنے کا مقصد اپنی فکر پارٹی کارکنان تک پہنچانا ہے، کیونکہ ایم کیو ایم آج جس بدترین اندرونی خلفشار اور گروہ بندی کا شکار ہے، ماضی میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ انہوں نے حالیہ دنوں میں پارٹی رہنماؤں کی جانب سے کی جانے والی متنازع بیان بازی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے یاد دلایا کہ ایم کیو ایم 22 اگست 2016 کو نہیں بلکہ 18 مارچ 1984 کو بنی تھی، اور جو لوگ آج جلسوں اور اجلاسوں میں پارٹی کے بنیادی نظریات پر متنازع گفتگو کر رہے ہیں، وہ کارکنان کو تقسیم در تقسیم کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بائیس اگست سے پہلے کی ایم کیو ایم اپنے سخت تنظیمی نظم و ضبط کی وجہ سے جانی جاتی تھی اور آج ہمیں اسی ڈسپلن کو بحال کرنے کی ضرورت ہے۔

ایم کیو ایم میں اندرونی خلفشار کی بڑی کہانی: وسیم اختر کو گورنر سندھ بننے سے خالد مقبول صدیقی نے رکوایا، مصطفیٰ کمال کے سنسنی خیز انکشافات!

وسیم اختر نے ایم کیو ایم کے رہنماؤں کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ اس وقت پارٹی کی صدارت اور چیئرمین شپ حاصل کرنے کے لیے سینیئر رہنما آپس میں دست و گریبان ہیں اور انہوں نے پارٹی کا تماشا بنا دیا ہے، جبکہ کراچی کے اصل عوامی مسائل کو بالکل پسِ پشت ڈال دیا گیا ہے۔ انہوں نے غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا، “ہر بندے نے اپنی ڈیڑھ ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنا کر ایم کیو ایم کو تباہ کر دیا ہے، جس کی وجہ سے کارکنان مایوس ہو کر گھروں میں بیٹھ رہے ہیں۔” خالد مقبول صدیقی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ “خالد مقبول پارٹی چلا سکتے ہیں یا نہیں، اس کا فیصلہ انٹرا پارٹی الیکشن میں کارکنان خود کر دیں گے، لیکن خدا کے لیے بازاروں میں لڑائی جھگڑے بند کیے جائیں۔” اس موقع پر وسیم آفتاب نے بھی بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ چیئرمین بننے کے خواب دیکھ رہے ہیں، انہیں تو انٹرا پارٹی الیکشن کا طریقہ کار تک معلوم نہیں ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں