لاہور (ویب ڈیسک) — 14 جولائی 2026
لاہور کے علاقے باٹا پور میں واقع ایک نجی تفریحی پارک کے سوئمنگ پول میں انتظامیہ کی مجرمانہ اور ہولناک غفلت کے باعث نو سالہ بچی جاں بحق ہو گئی۔ دبئی سے اپنی فیملی کے ہمراہ گرمیوں کی چھٹیاں گزارنے پاکستان آنے والی نو سالہ رامین فاطمہ سوئمنگ پول کے اندر ہی پانی کی نکاسی کے لیے بنائے گئے گہرے اور بالکل کھلے مین ہول میں گر کر ڈوب گئی۔ اس المناک حادثے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور ریسکیو کی ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچیں اور بچی کی لاش کو برآمد کر کے ضابطے کی کارروائی کے لیے قریبی اسپتال منتقل کیا۔ پولیس نے ابتدائی شواہد اکٹھے کرنے کے بعد واٹر پارک کے تین اعلیٰ ذمہ داران کو حراست میں لے کر باقاعدہ تفتیش شروع کر دی ہے۔
تفصیلات کے مطابق ننھی رامین فاطمہ دو سال قبل اپنے والدین کے ساتھ دبئی شفٹ ہو گئی تھی اور حال ہی میں اپنی والدہ کے ہمراہ لاہور کے علاقے مصری شاہ میں واقع اپنی نانی کے گھر چھٹیاں گزارنے آئی تھی۔ پکنک منانے کے دوران جب بچی نہاتے ہوئے اچانک غائب ہوئی تو اہل خانہ نے اس کی تلاش شروع کی، مگر کچھ دیر بعد اس کی لاش پول کے اندر موجود نکاسی آب کے کھلے پائپ لائن ہول سے برآمد ہوئی۔ بچی کے ماموں سعد کے مطابق انتظامیہ نے پانی صاف کرنے یا نکالنے کے لیے پول کے فرش پر مین ہول تو بنایا تھا لیکن اس پر کوئی حفاظتی ڈھکن یا جالی نہیں لگائی تھی، جس کے تیز بہاؤ اور گہرائی کی وجہ سے بچی اندر پھنس گئی اور دم توڑنے کے باعث ہلاک ہوئی۔
ڈی آئی جی آپریشنز لاہور نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے بتایا کہ حادثہ ڈرین ہول پر لوہے کی حفاظتی جالی نہ لگانے کی سنگین لاپرواہی کی وجہ سے پیش آیا۔ پولیس نے متوفیہ کی غمزدہ والدہ کی مدعیت میں متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کر کے پارک کے مینیجر ثناء اللہ، سیکیورٹی انچارج نوید اور سی سی ٹی وی مانیٹرنگ کے انچارج آصف کو فوری طور پر گرفتار کر لیا ہے۔ ڈی آئی جی نے واضح کیا ہے کہ اس مجرمانہ کوتاہی کے مرتکب کسی بھی شخص کو رعایت نہیں دی جائے گی اور متاثرہ خاندان کو ہر قیمت پر انصاف فراہم کیا جائے گا۔ دوسری جانب واقعے کی خبر ملتے ہی بچی کے والد بھی دبئی سے لاہور کے لیے روانہ ہو گئے ہیں۔
