ملک بھر کے بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر بری خبر سامنے آئی ہے جہاں ان پر ماہانہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ (FPA) کی مد میں 41 ارب روپے کا بھاری اضافی مالی بوجھ ڈالنے کی تیاری کر لی گئی ہے۔ سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) نے جولائی 2026ء کی فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی 2 روپے 52 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی باضابطہ درخواست نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں جمع کرا دی ہے۔ نیپرا کے جاری کردہ شیڈول کے مطابق اس اہم درخواست پر باقاعدہ عوامی سماعت 27 اگست کو ہوگی، جس کی منظوری کے بعد جی ایس ٹی سمیت صارفین سے 41 ارب روپے کی خطیر رقم وصول کی جائے گی۔
سی پی پی اے کی جانب سے نیپرا کو جمع کرائے گئے مالی گوشوارے کے مطابق جولائی کے دوران مختلف ذرائع سے مہنگی بجلی پیدا کی گئی۔ اعداد و شمار کے مطابق جولائی میں درآمدی ایل این جی (LNG) سے 10.78 فیصد بجلی 47 روپے 37 پیسے فی یونٹ کی شرح سے تیار کی گئی جس پر 77 ارب 19 کروڑ روپے کے اخراجات آئے، جبکہ فرنس آئل سے 1.42 فیصد بجلی 50 روپے 7 پیسے فی یونٹ کی لاگت سے بنائی گئی جس پر 10 ارب 77 کروڑ روپے خرچ ہوئے۔ اس کے علاوہ ڈیزل کے ذریعے 3 کروڑ 10 لاکھ یونٹ بجلی 54 روپے 47 پیسے فی یونٹ کی بلند ترین سطح پر پیدا کی گئی، جبکہ سستی نیوکلیئر پاور سے 10.10 فیصد بجلی 3 روپے 2 پیسے فی یونٹ کی شرح سے حاصل ہوئی۔
رپورٹ کے مطابق جولائی میں قومی گرڈ میں پن بجلی (ہائیڈل) کا سب سے بڑا حصہ 39.81 فیصد رہا، جبکہ مقامی کوئلے سے 10.91 فیصد اور درآمدی کوئلے سے 14.38 فیصد بجلی بنائی گئی۔ نیپرا اتھارٹی 27 اگست کو ہونے والی تفصیلی سماعت کے دوران پیداواری لاگت، میرٹ آرڈر کی پاسداری اور تقسیم کار کمپنیوں کے تمام تکنیکی اعداد و شمار کی جانچ پڑتال کرے گی، جس کے بعد بجلی کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق حتمی اور باضابطہ فیصلہ جاری کیا جائے گا۔
