
پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام کی بحث ایک بار پھر قومی سیاست میں اہم موضوع بن گئی ہے۔ اس تجویز کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ چھوٹے انتظامی یونٹس سے حکمرانی بہتر، عوامی خدمات مؤثر اور پسماندہ علاقوں کو زیادہ نمائندگی مل سکتی ہے۔
جنوبی پنجاب، بہاولپور اور ہزارہ سمیت مختلف علاقوں میں الگ صوبوں کے مطالبات پہلے سے موجود ہیں۔ دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ نئے صوبے بنانے سے انتظامی اخراجات، وسائل کی تقسیم، حدود اور سیاسی اختلافات جیسے نئے مسائل بھی پیدا ہوسکتے ہیں۔
نئے صوبے کا قیام صرف سیاسی اعلان سے ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے آئینی طریقہ کار اور وسیع سیاسی اتفاقِ رائے ضروری ہے۔ اسی لیے یہ فیصلہ تمام سیاسی جماعتوں، متعلقہ علاقوں اور عوام کے مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے کرنا ہوگا۔
غیر جانب دارانہ طور پر دیکھا جائے تو اصل سوال صرف یہ نہیں کہ پاکستان میں کتنے صوبے ہونے چاہئیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا نیا انتظامی ڈھانچہ عوام کو بہتر حکمرانی، مساوی مواقع اور مؤثر سہولیات فراہم کرسکے گا؟
نئے صوبے بنیں یا نہیں، حتمی مقصد بہتر حکمرانی اور عوامی مسائل کا مؤثر حل ہونا چاہیے۔
