
پاکستان میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کی بحث نئی نہیں، مگر اصل سوال یہ ہے کہ اس کا فیصلہ کون کرے گا؟ چند سیاسی ایوان، مرکزی بیوروکریسی اور طاقتور اشرافیہ یا وہ عوام جو دہائیوں سے دور دراز علاقوں میں بنیادی سہولیات، انصاف اور مؤثر حکمرانی تک رسائی کے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں؟ 19 اگست 2026 کو چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے اس بحث کو ایک واضح جمہوری اصول دیا کہ نئے صوبے کے معاملے پر جو قدم عوام کی رائے اور اتفاقِ رائے سے اٹھایا جائے گا، پیپلز پارٹی اس کا ساتھ دے گی۔ یہ مؤقف محض ایک سیاسی بیان نہیں بلکہ اس بنیادی حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ انتظامی نقشے اقتدار کے مراکز کی سہولت کے لیے نہیں بلکہ عوام کی ضرورت کے مطابق تشکیل پانے چاہئیں۔ پاکستان کے بڑے صوبوں میں فیصلہ سازی اور وسائل کی مرکزیت نے کئی دور دراز علاقوں کو صوبائی دارالحکومتوں سے انتظامی طور پر بھی اور ترقی کے اعتبار سے بھی دور رکھا ہے۔ ایک عام شہری کو صحت، تعلیم، پولیس، زمین یا دیگر بنیادی سرکاری امور کے لیے طویل فاصلے طے کرنا پڑتے ہیں، جبکہ وسائل اور اختیارات چند مراکز میں مرتکز رہتے ہیں۔ ایسے میں نئے صوبوں کی بحث کو صرف سیاسی تقسیم یا انتخابی انجنیئرنگ کے چشمے سے دیکھنا اصل مسئلے سے فرار ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ریاستی اختیار شہری کے قریب آ رہا ہے یا بدستور چند طاقتور مراکز کے گرد گھوم رہا ہے؟
نئے صوبوں کی تشکیل یقیناً محض نقشے پر نئی لکیر کھینچنے کا نام نہیں۔ اگر کسی خطے کے عوام سمجھتے ہیں کہ موجودہ انتظامی ڈھانچہ ان کی ضروریات پوری نہیں کر رہا اور وہ جمہوری طریقے سے ایک نئے صوبے کا مطالبہ کرتے ہیں تو ان کی آواز کو سننا ہی جمہوریت کا تقاضا ہے۔ آئین پاکستان بھی صوبائی حدود میں تبدیلی کے لیے واضح آئینی طریقہ کار فراہم کرتا ہے، جس میں متعلقہ صوبائی اسمبلی کی دو تہائی منظوری بنیادی شرط ہے۔ اس لیے نہ تو نئے صوبوں کو سیاسی مفاد کے لیے مسلط کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی عوامی مطالبے کو محض سیاسی نعرہ قرار دے کر نظر انداز کیا جانا چاہیے۔ تاہم نئی انتظامی اکائیوں کے ساتھ مضبوط مقامی حکومتیں بھی ناگزیر ہیں۔ آئین کا آرٹیکل 140A خود صوبوں کو مقامی حکومتوں کو سیاسی، انتظامی اور مالی اختیار منتقل کرنے کا پابند کرتا ہے۔ یعنی حقیقی اصلاح کا مطلب صرف چھوٹے صوبے نہیں بلکہ ایسا نظام ہے جس میں وفاق مضبوط، صوبے بااختیار اور مقامی حکومتیں مؤثر ہوں۔ یہی وہ ماڈل ہے جو مرکزیت کے بجائے اختیارات کی حقیقی تقسیم کو ممکن بنا سکتا ہے۔
بلاول بھٹو زرداری کا حالیہ مؤقف اسی وسیع تر جمہوری اصول کو سامنے لاتا ہے کہ کسی بھی انتظامی تبدیلی کا اصل مالک عوام ہونا چاہیے۔ پیپلز پارٹی کی سیاسی تاریخ میں صوبائی خودمختاری، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور اختیارات کی منتقلی اہم موضوعات رہے ہیں؛ 18ویں آئینی ترمیم اور این ایف سی جیسے اقدامات اسی بحث کا حصہ ہیں۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ اس تصور کو مزید نچلی سطح تک لے جایا جائے۔ اگر کسی خطے میں عوامی اتفاقِ رائے نئے صوبے کا تقاضا کرتا ہے تو اسے اشرافیائی مفادات کی وجہ سے روکا نہیں جانا چاہیے، اور اگر کسی علاقے میں ایسی خواہش موجود نہیں تو اسے مصنوعی طور پر پیدا بھی نہیں کیا جانا چاہیے۔ پاکستان کو ایسے انتظامی ڈھانچے کی ضرورت ہے جس کا معیار سیاسی فائدہ نہیں بلکہ شہری کی زندگی میں بہتری ہو۔ آخرکار نئے صوبے چند نئے دفاتر یا اسمبلیوں کے قیام کا نام نہیں؛ ان کا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ ریاستی اختیار، وسائل، انصاف اور ترقی عوام کی دہلیز تک پہنچیں۔ پاکستان کا انتظامی مستقبل چند ایوانوں کی سہولت سے نہیں، عوام کی آواز، اتفاقِ رائے اور بہتر حکمرانی سے طے ہونا چاہیے۔
علیشبہ علی
