اقلیتوں کا احترام، قومی اتحاد کی ضمانت .

پاکستان میں 11 اگست محض ایک یادگاری دن نہیں بلکہ اس عہد کی تجدید کا موقع ہے کہ ریاست اپنے ہر شہری کے بنیادی حقوق، مذہبی آزادی، عزتِ نفس اور مساوی مواقع کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔ یومِ اقلیت ہمیں اس بنیادی حقیقت کی یاد دہانی کراتا ہے کہ پاکستان کی قومی شناخت کسی ایک طبقے تک محدود نہیں بلکہ مختلف مذہبی اور سماجی برادریوں کے مشترکہ کردار سے تشکیل پاتی ہے۔ یہی قومی یکجہتی کا جذبہ پاکستان کو آزادی کے 79ویں سال میں مزید مضبوط بنانے کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ 11 اگست کی اہمیت پاکستان کی تاریخ کے ایک انتہائی اہم لمحے سے جڑی ہوئی ہے۔ 11 اگست 1947 کو قائداعظم محمد علی جناحؒ نے دستور ساز اسمبلی سے اپنے تاریخی خطاب میں شہری مساوات اور مذہبی آزادی کے اصول واضح کیے۔ انہوں نے کہا تھا: “آپ آزاد ہیں، آپ آزاد ہیں کہ اس ریاستِ پاکستان میں اپنے مندروں میں جائیں، اپنی مسجدوں میں جائیں یا کسی بھی دوسری عبادت گاہ میں جائیں۔” قائداعظمؒ کا یہ پیغام پاکستان کے اس تصور کی عکاسی کرتا ہے جس میں شہری کی عزت اور حقوق اس کے مذہب یا عقیدے سے بالاتر ہو کر ریاستی ذمہ داری کا حصہ ہیں۔ یومِ اقلیت اسی تاریخی وژن کی یاد تازہ کرتا ہے، تاہم یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ 11 اگست کو باقاعدہ قومی یومِ اقلیت کے طور پر منانے کا فیصلہ 2009 میں کیا گیا۔ اس طرح یہ دن گزشتہ کئی برسوں سے پاکستان میں اقلیتی برادریوں کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنے، ان کے حقوق کے تحفظ کے عزم کو دہرانے اور قومی زندگی میں ان کی شمولیت کو اجاگر کرنے کے لیے منایا جا رہا ہے۔ پاکستان کی اقلیتی برادریوں نے قومی تعمیر میں ہمیشہ نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ دفاعِ وطن سے لے کر تعلیم، طب، عدلیہ، تجارت، صنعت، سرکاری خدمات اور سماجی ترقی تک مختلف شعبوں میں اقلیتی شہریوں کی خدمات ہماری قومی تاریخ کا قابلِ فخر حصہ ہیں۔ مسیحی، ہندو، سکھ، پارسی اور دیگر برادریوں سے تعلق رکھنے والے پاکستانیوں نے اپنی محنت، قابلیت اور پیشہ ورانہ خدمات کے ذریعے ملک کی ترقی میں حصہ ڈالا ہے۔ ان کی قربانیاں اور کامیابیاں اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہیں کہ پاکستان کی اصل قوت اس کے شہریوں کی صلاحیتوں اور باہمی تعاون میں ہے۔ ریاستی سطح پر بھی اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ادارہ جاتی اقدامات کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ قومی کمیشن برائے اقلیتی حقوق، اقلیتی فلاحی اقدامات، عبادت گاہوں کے تحفظ اور طلبہ کے لیے وظائف جیسے اقدامات اس عزم کی عکاسی کرتے ہیں کہ اقلیتی برادریوں کو قومی ترقی کے عمل میں مؤثر طور پر شامل رکھا جائے۔ 2025 میں قومی کمیشن برائے اقلیتی حقوق کے حوالے سے قانون سازی بھی اسی ادارہ جاتی کوشش کا حصہ ہے۔ اسی طرح بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دینا قومی یکجہتی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ مختلف مذہبی برادریوں کے درمیان مکالمہ، برداشت، باہمی احترام اور مذہبی آزادی کا فروغ ایک ایسے معاشرے کی تشکیل میں مدد دیتا ہے جہاں اختلاف تقسیم کا سبب بننے کے بجائے قومی تنوع کی خوبصورتی بن سکے۔ پاکستان کی اسلامی اور آئینی روایات بھی مذہبی آزادی اور اقلیتوں کے جائز حقوق کے احترام پر زور دیتی ہیں۔ یومِ اقلیت اور یومِ آزادی ایک دوسرے سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔ 14 اگست 1947 کو حاصل ہونے والی آزادی صرف ایک جغرافیائی خطے کے قیام کا نام نہیں بلکہ ایک مشترکہ قومی مستقبل کا آغاز تھی۔ آج 79 برس بعد پاکستان کے لیے اہم پیغام یہی ہے کہ قومی اتحاد، قانون کی بالادستی، شہری مساوات اور باہمی احترام کو مزید مضبوط کیا جائے۔ ایسا پاکستان جہاں ہر شہری خود کو ریاست کا برابر کا حصہ سمجھے، بیرونی چیلنجز کے مقابلے میں زیادہ متحد اور اندرونی طور پر زیادہ مضبوط ہوگا۔ پاکستان کی ترقی، استحکام اور سلامتی کا تقاضا ہے کہ اختلافات کو تقسیم کا ذریعہ بنانے کے بجائے باہمی احترام اور قومی یکجہتی کے ذریعے طاقت میں تبدیل کیا جائے۔ اقلیتوں کا تحفظ کسی ایک طبقے پر احسان نہیں بلکہ ریاست کی آئینی ذمہ داری اور قومی مفاد ہے۔ جب ہر پاکستانی کو تحفظ، عزت اور آگے بڑھنے کے مساوی مواقع حاصل ہوں گے تو قومی پرچم کے سائے تلے اتحاد مزید مضبوط ہوگا۔ یومِ اقلیت کے موقع پر یہی عہد پاکستان کی اصل طاقت بن سکتا ہے: ایک ریاست، ایک پرچم، مشترکہ مستقبل اور ہر شہری کے لیے برابر عزت و وقار۔

اپنا تبصرہ لکھیں