
پاکستان کا انتظامی ڈھانچہ ایک ایسی گتھی بن چکا ہے جسے مزید نظرانداز کرنا دانش مندی نہیں۔ دنیا کی بڑی اقوام نے وقت کے ساتھ اپنی آبادی اور جغرافیائی تقاضوں کے مطابق اپنے نظامِ حکمرانی کو ڈھالا، مگر پاکستان ایک جامد اور غیرمتوازن ڈھانچے سے چمٹا رہا۔ آج ملک کی آبادی 25 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ صوبوں کی تعداد وہی چار ہے جو 1947 میں طے ہوئی تھی۔ یہ محض ایک ہندسوں کا فرق نہیں، بلکہ ایک اسٹریٹجک خطرہ ہے جو حکمرانی، ترقی اور قومی یکجہتی کے لیے سنگین سوالات کھڑے کر رہا ہے۔ جس صوبے کی آبادی 12 کروڑ 80 لاکھ سے زائد ہو جو دنیا کے 180 سے زیادہ ممالک کی مجموعی آبادی سے بڑھ کر ہے وہ محض ایک انتظامی اکائی نہیں رہتا، ایک چیلنج بن جاتا ہے۔
عالمی منظرنامے پر نظر ڈالیں تو کامیاب نمونوں کی کمی نہیں۔ ترکیہ کی آبادی 8 کروڑ 60 لاکھ ہے پاکستان سے تقریباً ایک تہائی کم پھر بھی وہ 81 صوبوں میں منقسم ہے۔ یہ اتفاق نہیں بلکہ ایک شعوری سیاسی فیصلہ ہے کہ اقتدار عوام کے قریب رہنا چاہیے۔ انڈونیشیا، جس کی آبادی پاکستان سے بھی بڑھ کر 27 کروڑ 50 لاکھ ہے اور جہاں 700 سے زیادہ زبانیں بولی جاتی ہیں، محض 38 صوبوں میں سمٹ کر بھی متحد کھڑا ہے — یہ ثابت کرتا ہے کہ کثیر لسانی معاشروں میں چھوٹی انتظامی اکائیاں تفریق نہیں بلکہ اتحاد کا ذریعہ بنتی ہیں۔
مغربی سرحد پر واقع افغانستان، جو جغرافیائی اعتبار سے کہیں دشوار گزار ہے، محض 4 کروڑ 40 لاکھ آبادی کے باوجود 34 صوبوں پر مشتمل ہے۔ کینیا نے 2010 کے آئین کے بعد 47 کاؤنٹیوں کا نظام متعارف کروا کر وسائل اور فیصلہ سازی کو براہِ راست عوام تک پہنچایا جو اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کی روشن مثال ہے۔ نیپال، جس کی کل آبادی پاکستان کے صرف صوبہ خیبرپختونخوا سے بھی کم ہے، نے 2015 میں نیا آئین اپناتے ہوئے وحدانی نظام سے فیڈرل نظام کی طرف کامیاب پیش رفت کی اور سات صوبے تشکیل دیے۔ بنگلہ دیش، جو کبھی پاکستان کا حصہ تھا، نے اپنی انتظامی ڈویژنوں کو چار سے بڑھا کر آٹھ کر دیا پاکستان میں فی صوبہ اوسط آبادی 6 کروڑ 25 لاکھ ہے جو دنیا میں سب سے زیادہ شرح ہے۔ اس کے مقابلے میں یہ اوسط ترکیہ میں محض 10 لاکھ 60 ہزار، افغانستان میں 13 لاکھ، انڈونیشیا میں 72 لاکھ، کینیا میں 11 لاکھ 70 ہزار، نیپال میں 43 لاکھ، بنگلہ دیش میں 2 کروڑ 12 لاکھ 50 ہزار، امریکہ میں 68 لاکھ اور چین میں 4 کروڑ 50 لاکھ ہے۔ جب ترکیہ 8 کروڑ 60 لاکھ افراد کو 81 اکائیوں میں سنبھال لیتا ہے اور افغانستان 4 کروڑ 40 لاکھ کو 34 میں، جبکہ پاکستان 25 کروڑ عوام کو محض چار صوبوں کے حوالے کیے بیٹھا ہے، تو یہ سوال بجا طور پر اٹھتا ہے: کیا پاکستان دنیا کا سب سے زیادہ مرکزیت زدہ نظام چلا رہا ہے؟ اور کیا اَسی سالہ پرانا ڈھانچہ آج کے تقاضوں کا متحمل ہو سکتا ہے؟نہ نسلی بنیاد پر، نہ لسانی، بلکہ خالصتاً انتظامی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے۔
آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 239 نیا صوبہ تشکیل دینے کا واضح طریقہ کار فراہم کرتا ہے: پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں دو تہائی اکثریت، اور متعلقہ صوبائی اسمبلی کی دو تہائی منظوری۔ یہ شق 1973 سے موجود ہے، اور کوئی بھی سیاسی جماعت اسے نظرانداز کرنے کا اختیار نہیں رکھتی۔ ایم کیو ایم-پاکستان کا مؤقف ہے کہ بڑھتی آبادی کے تناظر میں نئے صوبوں کا قیام آئینی تقاضا ہے۔ دوسری جانب پیپلز پارٹی خبردار کرتی ہے کہ مجوزہ 28ویں ترمیم صوبائی خودمختاری اور 18ویں ترمیم کی روح کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ اصل سوال مگر یہی رہتا ہے: کیا نئے صوبوں کی تشکیل سیاسی مفاد کا مسئلہ ہے یا آئینی فریضہ؟ جب راستہ آئین میں موجود ہے، تو اس پر عمل درآمد کیوں تعطل کا شکار ہے؟
آرٹیکل 140-A ایک اور اہم شق ہے جو صوبوں کو پابند کرتی ہے کہ وہ اختیارات مقامی حکومتوں تک منتقل کریں۔ اٹھارہویں ترمیم کے سولہ برس گزر جانے کے باوجود یہ شق مکمل طور پر نافذ نہیں ہو سکی۔ جب آئین کا تقاضا ہو کہ اختیار عوام کے قریب جائے، اور ہم اسے دارالحکومتوں میں مقید رکھیں، تو یہ رویہ آئین کی بالادستی نہیں بلکہ سیاسی مفادات کی حکمرانی ظاہر کرتا ہے۔ آئین پر خلوصِ نیت سے عمل درآمد ہی نئے صوبوں کا راستہ کھول سکتا ہے مگر اس کے لیے سیاسی عزم درکار ہے، جس کی آج بھی کمی محسوس کی جاتی ہے۔سرائیکی صوبے کا مطالبہ چار دہائیوں پرانا ہے اور غالباً واحد ایسا مطالبہ ہے جس پر وسیع سیاسی اتفاقِ رائے موجود ہے۔ سرائیکی قوم پرستوں کے مطابق 1849 میں برطانوی راج نے ملتان کی صوبائی حیثیت ختم کر دی تھی، جو آج تک بحال نہ ہو سکی۔ سینیٹ میں جنوبی پنجاب صوبے سے متعلق بل منظور بھی ہو چکا ہے، اور این ایف سی ایوارڈ کے تحت یہ ممکنہ صوبہ تیسرا سب سے بڑا وصول کنندہ ہوگا۔ اس کے باوجود اب تک صرف وعدے ہیں، عملی پیش رفت مفقود ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب سینیٹ رضامندی دے چکی اور سیاسی اتفاق بھی موجود ہے، تو تاخیر کس بات کی ہے؟ کیا یہ خدشہ محض سیاسی ہچکچاہٹ ہے یا اس کے پیچھے حقیقی انتظامی پیچیدگیاں کارفرما ہیں؟
نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کا کہنا ہے کہ موجودہ سیاسی و انتظامی ڈھانچہ اپنی افادیت کھو چکا ہے اور اس میں بنیادی تبدیلی ناگزیر ہے۔ کمیٹی کا مطالبہ ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں کی شمولیت سے نیا انتظامی خاکہ ترتیب دیا جائے، آرٹیکل 239 کے تحت مطلوبہ اکثریت سے ترمیم منظور کی جائے، اور آرٹیکل 140-A کو من و عن نافذ کیا جائے۔ مگر بنیادی مشکل یہی ہے کہ تبدیلی کے لیے سیاسی اتفاق درکار ہے، اور اس اتفاق کی قیادت کون کرے گا؟ جب تک جماعتیں اپنے تنگ مفادات کو قومی ترجیحات پر فوقیت دیتی رہیں گی، یہ مطالبہ نامکمل ہی رہے گا۔ نئے صوبوں کی تشکیل کے چیلنجز کو کم سمجھنا بھی غلطی ہوگی۔ نیا سیکرٹریٹ، نئی بیوروکریسی، اضافی اخراجات، اور ایک نیا این ایف سی فارمولا یہ سب موجودہ نظام میں ضم کرنا آسان کام نہیں۔ موجودہ صوبائی حکومتیں اپنے اختیارات میں کمی پر آمادہ نظر نہیں آتیں، اور وسائل کی نئی تقسیم بھی ایک پیچیدہ مرحلہ ہے۔ مگر کیا یہ دشواریاں اتنی بڑی ہیں کہ ان کی خاطر پچیس کروڑ انسانوں کی بہتر حکمرانی کو داؤ پر لگا دیا جائے؟ ترکیہ، انڈونیشیا اور کینیا جیسے ممالک نے انہی مشکلات کا سامنا کیا اور کامیابی سے گزرے۔ بھارت نے نو ریاستوں سے اٹھائیس ریاستوں تک کا سفر طے کیا، اور 1981 سے 2015 کے دوران نئی تشکیل شدہ ریاستوں کی اقتصادی ترقی کی شرح 7.8 فیصد تک جا پہنچی جو قومی اوسط سے کہیں زیادہ تھی۔
عالمی تجربات سے ایک حقیقت واضح ہو کر سامنے آتی ہے: چھوٹی انتظامی اکائیاں بہتر حکمرانی، تیز تر ترقی اور مستحکم وفاق کی ضمانت بنتی ہیں۔ یہ کوئی سیاسی نظریہ نہیں بلکہ دنیا کے تجربے سے ثابت شدہ حقیقت ہے۔ پاکستان کو اب یہ طے کرنا ہے کہ آیا 1947 کا نقشہ 2026 کی ضروریات کا بوجھ اٹھا سکتا ہے، یا نظام میں بنیادی تبدیلی وقت کی ضرورت بن چکی ہے۔ نئے صوبوں کی تشکیل کوئی بغاوت نہیں بلکہ آئین کا تقاضا ہے۔ یہ تقسیم کا مسئلہ نہیں، بہتر حکمرانی کا سوال ہے۔ جب تک اختیار عوام کے قریب نہیں لایا جاتا، حکمرانی کا بحران برقرار رہے گا۔
نقشہ بدلنا آسان ہے، نظام بدلنا مشکل۔ اصل امتحان یہی ہے: کیا ہم یہ مشکل راستہ اختیار کرنے کو تیار ہیں؟ کیا سیاسی جماعتیں اپنے مفادات پر قومی مفاد کو ترجیح دیں گی؟ کیا آئین پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے گا؟ نئے صوبوں کا وقت آ چکا ہے نہ صرف اس لیے کہ عوام یہ مطالبہ کر رہے ہیں، بلکہ اس لیے کہ یہ آئین کی روح ہے اور پاکستان کے مستقبل کی ضمانت بھی۔ جب تک اس حقیقت کو تسلیم نہیں کیا جاتا، پاکستان بہتر کل کی جانب پیش قدمی نہیں کر سکتا۔
امریکہ کی پچاس ریاستیں فیڈرل نظام کی ایک زندہ مثال ہیں، جہاں ہر ریاست کا اپنا آئین، عدلیہ اور مقننہ ہے، اور مرکز کے پاس صرف وہی اختیارات ہیں جو آئین میں واضح طور پر درج ہیں۔ چین، رقبے کے اعتبار سے دنیا کا بڑا ملک، 31 صوبوں، خودمختار علاقوں اور بلدیات میں بٹا ہوا ہے، اور یہی تنوع اسے یکجا رکھے ہوئے ہے۔ ان تمام ممالک میں ایک قدرِ مشترک ہے: انہوں نے اپنی ضروریات کے مطابق نظام کو ڈھالا، جبکہ پاکستان ایک منجمد ڈھانچے پر کھڑا رہا۔
