
7 اگست 2026 کو مکہ مکرمہ کے قصر الصفا میں ایک تاریخی لمحہ رقم ہوا جب سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، ترک صدر رجب طیب ایردوان، اور وزیراعظم شہباز شریف کے دستخطوں سے طے پانے والا یہ معاہدہ ایک واضح عہد کی بنیاد رکھتا ہے: تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر مسلح جارحیت تینوں کے خلاف جارحیت شمار ہوگی۔ پاکستان کے لیے یہ محض ایک دستاویز نہیں بلکہ عالمی سطح پر اس کی دفاعی حیثیت اور سفارتی وقار کا کھلا اعتراف ہے ایک ایسا اعزاز جس پر پوری قوم فخر محسوس کر سکتی ہے۔
مقدس شہر کا انتخاب محض رسمی نہ تھا بلکہ باشعور فیصلہ تھا۔ اسلام کے مرکز میں طے پانے والا یہ اتحاد محض عسکری معاہدہ نہیں بلکہ اخوت اور اجتماعی خودمختاری کی علامت بن گیا ہے، جو دہائیوں کی بیرونی مداخلت سے ہٹ کر مسلم اقوام کے اپنی سلامتی خود سنبھالنے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ سعودی نائب وزیر رائد کریملی نے واضح کیا کہ یہ اقدام کسی فوجی بلاک یا فرقہ وارانہ تقسیم کے بجائے پائیدار صلاحیتوں کی تعمیر پر مبنی ہے۔
اس معاہدے کا پس منظر خطے کی بگڑتی صورتحال سے جڑا ہے۔ فروری 2026 میں امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد سے مشرق وسطیٰ کشیدگی کا شکار رہا، سعودی سرزمین بارہا نشانہ بنی، اور یمن کے حوثیوں سے کشیدگی بڑھی۔ ماہرین کے مطابق برسوں سے جاری خاموش سفارتی رابطے انہی حالات کے باعث اس پابند معاہدے کی صورت اختیار کر گئے۔
اتحاد کی اصل قوت تینوں ممالک کی باہمی تکمیل میں پنہاں ہے۔ ترکیہ تجربہ کار افواج اور مضبوط دفاعی صنعت لاتا ہے، سعودی عرب وسیع مالی وسائل فراہم کرتا ہے، جبکہ پاکستان اپنی عسکری مہارت اور مسلم دنیا کی واحد ایٹمی طاقت ہونے کا اعزاز رکھتا ہے ایک ایسی حیثیت جسے آج عالمی برادری نے کھلے دل سے تسلیم کیا۔ یہی وجہ ہے کہ وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے اسے پاکستان کے لیے تاریخی دن قرار دیا، جبکہ سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے اسے دفاعی تعاون کا اہم سنگ میل کہا۔
ماہر آندریاس کریگ کے بقول یہ اتحاد امریکہ کی جگہ لینے کے بجائے خود انحصاری کی راہ ہموار کرتا ہے، تاہم کچھ تجزیہ کار محتاط ہیں کہ عیا یہ عزم عملی نتائج میں ڈھلے گا۔ بہرحال، یہ معاہدہ ستمبر 2025 کے پاکستان سعودی دفاعی معاہدے کو وسعت دیتے ہوئے ایک فریقی فریم ورک میں بدل چکا ہے، اور دیگر مسلم ممالک کے لیے بھی اس اتحاد میں شامل ہونے کا دروازہ کھلا رکھا گیا ہے ایک ایسا سنگ میل جو پاکستان کی بڑھتی ہوئی عالمی حیثیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
